چھوٹا غالب

غزل 

نشاطِ معنویاں  از  شراب خانہ  تست
فسونِ بابلیاںفصلے از افسانہ  تست
اہلِ طریقت بھی تیری ہی شراب سے سرشار ہیں۔ اہل ِ بابل کا سارا جادو  بھی  تیرے  افسانے کا ایک باب ہے۔
بہ جام و آئنہ  حرف جم  و سکندر  چیست
کہ ہر چہ رفت بہ ہر عہد درزمانہ تست
جام اور آئینے  کی بات ہو  تو جم اور سکندر کا حوالہ کس لیے۔؟ کہ ہر دور اور ہر عہد میں جو کچھ بھی گزرا وہ  تیرے ہی زمانے  کے متعلق تھا۔
فریبِ حسنِ بتاں پیشکش اسیر  تو ایم
اگر خطست وگر خال ، دام و دانہ ِٔ تست
ہم جو حسینوں کے فریبِ حسن کا شکار ہیں۔یہ فقط  ایک بہانہ یا وسیلہ ہے ۔ ورنہ حقیقت میں تو ہم تیری ہی محبت کے اسیر ہیں۔  حسینوں کے خط و خال تیرے ہی تو دام و دانہ ہیں
ہم از احاطہ تست ایں کہ در جہاں  ما را
قدم بہ بت کدہ و  سر بر آستانہ ِٔ تست
تو  جو تمام عالم پر چھایا ہوا ہے تو یہ اسی کا نتیجہ  ہے کہ ہم ہیں تو بت کدے میں مگر ہمارا سر تیرے آستانے پر  ہے۔
سپہر را تو  بتاراج  ما گماشتہ ای
نہ ہر چہ دزد  زما  برد در خزانۂِ تست؟
تو نے آسمان کو  ہمیں لوٹنے پر مقرر کر رکھا ہے  لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ چور جو کچھ بھی ہم سے لوٹ کر لے گیا وہ تیرے ہی خزانے میں ہے۔؟
مرا چہ جرم گر آسماں پیماست
نہ تیز گامی  توسن  ز تازیانہ ِٔ تست؟
اگر میرا تخیل آسمانوں کی سیر  کرتا ہے  تو اس میں میری  کیا خطا ہے۔ کیا یہ تیرا چابک نہیں جو میرے تخیل کے گھوڑے کو تیز رفتار کیے ہوئے ہے۔؟
کماں ز چرخ و خدنگ از  بلا و پر  ز قضا
خدنگ خوردہ ای صید  گہ نشانۂِ تست
آسمان  کمان کی مانند ہے تو مصیبتیں تیر کی صورت ہیں جبکہ قضا اس تیر  کے پر ہیں۔ اس شکار گاہ  یعنی دنیا میں تیر کھانے والا  تیرے ہی نشانے کی زد میں ہے۔
سپاس جود تو  فرض است آفرینش  را 
دریں فریضہ دو گیتی  ہماں دوگانہ  تست
اس  مخلوق یا کائنات کا فرض ہے  کہ وہ تیری  بخشش کا شکر  بجا لائے ۔ اس فریضے میں یہ دو جہاں گویا اس شکرانے کےدو نفل ہیں۔
تو اے کہ محو سخن  گستران ِ پیشینی 
مباش منکر ِ غالب  کہ در زمانہ تست
اے مخاطب! تو جو قدیم استاد شعرا کی شاعری کے مطالعے  میں محو رہتا ہے ۔  تو  غالب ؔ کا منکر نہ ہو کہ تیرے عہد (زمانے) میں ہے۔


پسِ منظر


مولانا  حالی  فرماتے ہیں:۔
مرزا  کی  وفات  سے  چھ سات برس پہلے کا ذکر  ہے  کہ ایک روز  نواب حسرتی (نواب مصطفےٰ خان شیفتہ) کے مکان پر  جبکہ راقم  بھی وہاں موجود تھا ۔ آرزردہ  ؔاور غالب اور بعض مہمان جمع تھے ۔ کھانے میں دیر تھی ۔ فارسی دیوان ِ غالب کے کچھ اوراق پڑے ہوئے مرزا کی نظر پڑ گئے ۔ ان میں ایک غزل تھی جس کے مقطع  میں اپنے منکروں کی طرف  خطاب کیا تھا ۔ جس کا مطلع  یہ ہے:۔
نشاط معنویاں  از شراب خانہ ِٔ تست
فسونِ بابلیاں فصلے از افسانہ  تست
مرزا نے وہ اوراق اٹھا لئے اور  مولانا آزردہ ؔسے مزاح کے طور پر کہا  :۔ "دیکھئے  کسی ایرانی  شاعر نے کیا زبردست غزل لکھی ہے۔" یہ کہہ کر  غزل پڑھنی  شروع کی ۔ اول  کے دو تین  شعروں کی مولانا نے تعریف کی ۔ مگر  پھر  بعض قرائن سے سمجھ گئے کہ مرزا ہی کا کلام ہے ۔ مسکرا کر  جیسی کہ ان کی عادت تھی  کہنے لگے:۔ "کلام مربوط ہے مگر نوآموز  کا کلام معلوم ہوتا ہے ۔" سب حاضرین ہنس پڑے ۔
جب مقطع کی نوبت آئی ۔  مرزا نے مولانا کی طرف خطاب کرکے  دردناک آواز  سے یہ مقطع پڑھا :۔
تو اے کہ محو سخن  گستران ِ پیشینی 
مباش منکر ِ غالب  کہ در زمانہ تست
اس وقت  سب لوگ بہت متاثر ہوئے  اور مولانا آزردہ  ؔشرما کر  خاموش ہو رہے۔
(یاد گارِغالب ۔ صفحہ نمبر  202)

چھوٹا غالب

غزل 


بہ وادی  کہ درآں خضر را عصا خفت ست
بہ سینہ می سپرم  رہ اگرچہ پا خفت ست
جس وادی میں خضر  ؑکا عصا سو گیا ہے ۔ وہاں  میں سینے کے بل چل کر  راستہ طے کرتا ہوں اگرچہ میرے پاؤں سو گئے ہیں۔
بدیں نیاز کہ با تست  ، ناز می رسدم 
گدا بہ سایہ  دیوار  پادشا خفت ست
یہ جو مجھے تجھ سے نیاز مندی ہے  مجھے  اس  پر فخر  ہے۔ ایک گدا بادشاہ  کی دیوار کے سائے میں سویا ہوا ہے۔
بہ  صبح  حشر چنین خستہ ، روسیہ خیزد
کہ در شکایت دردو غم دوا خفت ست
ایسا شخص جو عمر بھر  اپنی خستہ حالی اور  دکھ درد کے شکوے  کرنےاور دوا کے غم میں کھویا رہا اور پھر  سو گیا (مر گیا)وہ روزِمحشر روسیاہ  اٹھے گا۔
خروش  حلقہ رنداں  ز نازنیں  پسرے ست
کہ سر بہ زانوئے  زاہد  بہ بوریا خفت ست
رندوں  کے حلقے میں اس لیے شور  مچا ہوا ہے کہ ایک خوبصورت  لڑکا زاہد  کے زانو پہ سر رکھے بوریے پر سو رہا ہے۔
ہوا مخالف و شب تار  و بحر طوفاں خیز
گسستہ لنگر کشتی و ناخدا خفت ست
ہوا مخالف ، رات  اندھیری اور سمندر  میں طوفان اٹھ رہا  ہے ۔  کشتی کا لنگر  ٹوٹ چکا ہے اور ملاح سو رہا ہے۔
غمت بہ شہر  شبخوں زناں بہ بنگہ  خلق
عسس  بہ خانہ و شہ در  حرم سرا خفت ست
تیرا غم راتوں کو لوگوں کے گھر ڈاکے  ڈال رہا ہے ۔ لیکن کوتوال اپنے گھر اور بادشاہ  اپنے  حرم سرا میں سو رہا ہے۔
دلم بہ سبحہ و  سجادہ  و  ردا  لرزد
کہ دزد مرحلہ بیدار و پارسا خفت ست
تسبیح ، مصلیٰ اور چادر کی حالت  دیکھ کر  میرا دل لرز  رہا ہے ۔  کہ چور تو جاگ رہا ہے اور عبادت گزار سو رہا ہے۔
درازی شب و بیداری من ایں ہمہ نیست
زبختِ من خبر آریدتا کجا خفت ست
راتوں کا طویل ہونا اور میرا ساری رات جاگنا کوئی خاص بات نہیں۔ ذرا یہ معلوم کرو  کہ میرا نصیب کہاں سو رہا ہے ۔
ببیں ز دور ومجو قرب شہ کہ منظر را
دریچہ باز  و بہ  دروازہ  اژدہا  خفت ست
تو بادشاہ کو بس دور سے ہی دیکھ لے اور قربت کا خیال چھوڑ دے ۔ کیونکہ منظر کا دریچہ تو کھلا ہے ، لیکن دروازے پر اژدہا سو رہا ہے۔
بہ راہ خفتن من  ہر کہ بنگرد داند
کہ میر قافلہ در کارواں سرا خفت ست
جو کوئی بھی مجھے راستے میں سویا ہوا دیکھے گا  وہ جان لے گا کہ اس قافلے کا سردار کاروان سرا میں سو رہا ہے۔
دگر  زایمنی  راہ و قرب  کعبہ چہ حظ 
مرا کہ ناقہ ز رفتار ماند  و پا خفت ست
اگر  راستہ محفوظ ہے اور کعبہ بھی  قریب ہے ۔ تو مجھےکیا خوشی ہو سکتی ہے جبکہ میری  اونٹنی  چلنے سے رہ گئی ہے اور میرے پاؤں بھی سو گئے ہیں۔
بہ خواب چوں خودم  آسودہ دل مداں غالبؔ
کہ خستہ غرقہ  بہ خوں خفتہ است  تا خفت ست
غالبؔ! تو مجھے سویا ہوا دیکھ کر اپنی طرح آسودہ دل نہ سمجھ۔ کیونکہ خستہ دل آدمی تو سویا ہوا بھی یوں لگتا ہے گویا خون میں ڈوبا سو رہا ہے۔

(پسِ منظر)

 مرزا غالب ؔ جب اپنی پنشن کے مقدمے  کی پیروی  کیلئے کلکتہ  آئے تو مدرسہ عالیہ کلکتہ میں ان کے اعزاز میں ایک مشاعرہ  منعقد کیا گیا ۔ 
اس  مشاعرے میں مرزا  صاحب نے  مندرجہ ذیل غزل  پڑھی  ،تو نواب شمس الدین احمد  خان کے مقرر کردہ کچھ چیلوں  نے محض  ہنگامہ  آرائی اور غالب ؔ پر دباؤ  بڑھانے  کیلئے  خواہ مخواہ اعتراض کیے ۔ اور "عصا خفت" والی  ترکیب کو سراسر غلط اور  خلافِ قاعدہ قرار دیا۔  مرزا غالب ؔ نے شیخ سعدی ؒ کا "عصائے  شیخ خفت" بطور سند  پیش  کیا ۔    اصولی طور پر  اہلِ زبان کے کلام سے سند  ملنے پر  ان کا اعتراض فاسد ہو چکا تھا ۔ لیکن  وہ  تو مشاعرے میں شریک ہی اسی  لیے تھے کہ کسی  نہ کسی بہانےہنگامہ  کھڑا کریں  اور  غالبؔ کی کلکتے میں موجودگی  کونقص ِ امن کا باعث قرار  دلوا کر    مقدمے  اور  اس کے فیصلے پر  اثر انداز ہو  سکیں۔
اس  لیے انہوں  نے ایک فرسودہ  دلیل پیش کی کہ :۔" اس معاملے میں مرزا  قتیل  کی یہ رائے ہے۔"(یعنی یہ ترکیب غلط ہے) غالب  ؔ اول تو ہندوستان میں امیر خسرو  اور اپنے علاوہ کسی کو فارسی  دان سمجھتے ہی نہ  تھے ۔ اس پہ مستزاد کہ اہلِ زبان یعنی شیخ سعدی  ؒ کے مقابلے  میں ایک غیر  اہل زبان یعنی مرزا قتیل  کو  بطور سند پیش  کیا جا رہا تھا۔  وہ برا فروختہ ہو  گئے اور ناک بھوں چڑھا کر  فرمایا:۔" میں فرید  آباد  کے کھتری بچے کے قول کو کیونکر  ماننے لگا جس نے شہرت کی خاطر  اپنا دین بدل لیا تھا۔"
اس زمانے  میں دکن اور سارے جنوبی ہند  میں مرزا قتیل کی  وہی حیثیت تھی جو پاکستان  میں علامہ  اقبال  کی  ہے ۔  مدرسہ عالیہ کے اکثر مدرسین  اور طلباء  مرزا قتیل  کے مداحین  تھے  وہ غالبؔ کی ایسی  حق گوئی کی تاب نہ لا سکے اور مزید  ہنگامہ برپا کر دیا۔صرف یہی نہیں بلکہ اگلے دن کلکتہ میں پوسٹر لگائے گئے جن میں مرزا غالب ؔ کے کلام پر اعتراضات اور ان کے کلام  کی اصلاح دی گئی تھی ۔  کچھ پوسٹر ز پر  غالبؔ کے خلاف نعرے درج تھے ۔

وقت سب  سے  بڑا منصف ہے ۔  آج اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد   نواب شمس الدین احمد خان صرف کتابوں میں رہ  گیا ہے ۔ وہ  بھی صرف غالب ؔ کا  رشتے دار ہونے کے ناطے سے۔ آج قتیل صرف پرانے تذکروں میں ہی مل سکتا ہے ۔  غالب ؔ کے خلاف نعرے لگانے  والوں اور ان کے کلام کی اصلاح دینے والوں کے نام و نشان  بھی کسی کو یاد  نہیں۔  لیکن غالب ؔ کل بھی ہمارے دلوں میں تھے ۔ غالبؔ آج  بھی ہم میں ہیں۔

اگر  گیتی سراسر  باد گیرد
چراغ ِ مقبلاں ہر گز  نمیرد
(اگر زمین سراسر ہوا بن جائے ۔ تب بھی صاحبِ اقبال  اور مقبول لوگوں کا چراغ بجھایا نہیں جا سکتا)
فدوی چھوٹا غالبؔ
   
چھوٹا غالب

  غالب کے ایک شعر کی "حرحرکیاتی" تشریح


     ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام​
    مہرِ گردوں ہے چراغ راہگزار باد یاں​
    ​
     غالب نے تقریباً ہر موضوع پر اشعار قلم بند کیے ہیں۔ ان کی شاعری تہذیبی، ثقافتی، مذہبی، فلسفیانہ شعور تو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں ہی لیکن اگر بنظرعمیق جائزہ لیا جائے تو ان کی شاعری میں سائنسی شعور بھی شد و مد سے دکھائی دیتا ہے۔ درج بالا شعر کی تشریح، شارحین غالب نے اپنے اپنے انداز اور اپنی ذہنی سطح کے مطابق کی ہے لیکن راقم اسے سائنس کی شاخ "حرحرکیات" (تھرموڈائنامکس) کی روشنی میں واضح کرنے کی کوشش کرے گا۔
 حرحرکیات کا تصور اس وقت سامنے آیا جب 1824ء میں کارنو نے ایک مقالہ تحریر کیا جس میں اس نے بتایا کہ کسی حرارتی انجن کی کارکردگی کس طرح معلوم کی جائے؟ ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ اس کے مقاصد میں وسعت پیدا ہو گئی اور اسے کائنات کے مجموعی مطالعے میں استعمال کیا جانے لگا اور یوں حرحرکیات کو شہرت مل گئی۔​
    غالب کے خیال میں کائنات کے تما م اجزاء رُو بہ زوال ہیں۔ یہاں لفظ "آفرینش" استعمال ہوا ہے جو دراصل فارسی مصدر "آفریدن" سے مشتق ہے۔ اس کا مطلب ہے پیدا کرنا۔ یعنی کائنات میں جو بھی چیز پیدا ہوئی یا تخلیق کی گئی، سبھی کو زوال ہے اور سورج کو بھی "چراغ باد" سے تشبیہ دے کر اس میں شامل کر دیا ہے۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔​
    سورج بھی رُو بہ زوال ہے اور 25 کروڑ ٹن مادہ ہر منٹ میں اشعاع کی شکل میں بکھیر رہا ہے اور یہی حال دیگر ستاروں کا بھی ہے۔ مرزا غالب نے کائنات کی تباہی و بربادی کی توضیح کرنے کی غرض سے سورج کو بطور مثال منتخب کیا ہے کیونکہ تمام کے تمام نظام شمسی کا انحصار سورج پر ہے اور اگر سورج رُو بہ زوال ہے تو پھر نظام شمسی کے دیگر سیارچے کیا معنی رکھتے ہیں؟ سورج بذاتِ خود، بقول غالب، ایک ایسا چراغ ہے جو ہوا کے راستے میں ضوفشاں ہے اور ظاہر ہے کہ ہوا کے راستے میں رکھا چراغ کسی بھی لمحے یا کسی بھی جھونکے پر الوداع کہہ سکتا ہے۔ ہوا کے راستے میں رکھے چراغ کا تا بہ ابد روشن رہنا ناممکنات میں سے ہے اور غالب "مہرِ گردوں" کو اس سے تشبیہ دے کر اس کی زوال آمادگی واضح کرنے کی سعی کر رہے ہیں۔​
    اس شعر میں گزرتے وقت کو "باد" یعنی ہوا سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اگر دیکھیں تو وقت یا زمانہ ایک غیر محسوس شے ہے اور غالب نے بڑی عمدگی سے ایک غیر محسوس شے کو محسوس سے تشبیہ دے کر اپنا مدعا واضح کر دیا ہے۔ اگر بغور جائزہ لیں تو وقت جس تیزی کے ساتھ چیزوں کو بدل رہا ہے اور توانائی دن بہ دن کائنات میں پھیل کر منتشر ہو رہی ہے، وہ سب مادے کے تغیر کا نتیجہ ہے۔ اور بقول غالب وقت کی آندھی کے سامنے سورج ایسے طاقتور چراغ کا ٹکنا انتہائی مشکل ہے۔ گزرتے لمحوں کے ساتھ تبدیلیوں کا وقوع پذیر ہونا، دراصل طبیعی تغیر کا نتیجہ ہے۔ یہ طبیعی تغیر ہمیں تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
اگر بغور جائزہ لیں تو مشہور سائنسدان جیمس جینز نے اپنی کتاب (مرتا سورج) میں بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ سورج میں ہر وقت ایٹمی افتراق و امتزاج ہوتا رہتا ہے اور یہ کہ ایک ایسا وقت آئے گا جب سورج بالکل بجھ جائے گا۔​
    غالب بھی اس شعر کے دوسرے مصرعے میں سورج کو ہوا کے راستے میں رکھے چراغ سے تشبیہ دے کر اس کے بجھ جانے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ جناب شمس الرحمان فاروقی نے بھی اپنی کتاب "تفہیم غالب" میں اس نکتے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ان کے بقول، سورج کی سطح پر مسلسل برپا رہنے والے جوہری طوفان کے (Solar Wind) نتیجے میں پروٹون (باردار ذرات) کا جم غفیر، روشن گیس کی شکل میں سورج کے گرد کئی لاکھ میل تک پھیل جاتا ہے۔ اس روشن گیس کو بادخورشید
کہتے ہیں۔ اب یہ بالکل ممکن ہے کہ باد خورشید کے اعتبار سے سورج کو ایسا چراغ کہا جائے جس کا نام "باد" ہے۔​
      مختصر یہ کہ غالب جس عہد میں سانس لے رہے تھے اس میں حر حرکیات کے تصور ناکارگی کے اتنے قریب تر شعر کہنا غالب کے وجدان کا کمال ہے۔ محققین کے نزدیک غالب نے یہ شعر 1821ء اور 1826ء کے عرصے کے مابین کہا اور یہی وہ عہد ہے جس میں کارنو نے اپنا مقالہ تحریر کیا۔ یعنی 1824ء میں کارنو
کے حرحرکیاتی تصور اور غالب کا عہد ایک ہی زمانے کی پیداوار ہیں۔ دو مختلف جگہوں پر بیٹھ کر دو عظیم شخصیات مختلف شعبہ جات میں ایک جیسا سوچ رہی ہیں۔ اسے ہم اتفاق زمانہ کہیں یا اس عہد کی صورت حال کا تقاضا کہ اتنی بڑی مماثلت بہت کم دیکھنے کو ملے گی؛ اور غالب ایسا نابغہ روزگار اگر ایسا سوچتا ہے تو اس میں حیران ہونے والی کوئی بات نہیں کیونکہ ہر فطین زمانے کا نبض شناس ہوتا ہے اور غالب میں یہ خوبی بدرجہ اتم موجود تھی۔​
    غالب کے دیوان میں کئی شعر ایسے ہیں کہ جنہیں جدید نظریات کے تناظر میں رکھ کر دیکھا جائے تو وہ ان پر من و عن درست اترتے ہیں اور غالب کا درج بالا شعر بھی ایسے ہی اشعار میں سے ایک ہے۔​
    ​
    ​
    بشکریہ : گلوبل سائنس شمارہ مئی 2012​
چھوٹا غالب
ترجمہ

خوشبو آشنا دماغ کو دعوت  دی جا رہی ہے ، اور محفل  نشینوں کی طینت کو خوشخبری  سنائی جا رہی ہے کہ منقل (آتشدان)میں خوشبو کیلئے  عود جلانے کا کچھ سامان میسر  آ  گیا ہے ، اور کچھ عود ِ ہندی  بھی ہاتھ لگ گئی ہے ۔ یہ عود  کی لکڑی پتھر سے کاٹی نہیں گئی ہے ، نہ غیر مناسب  انداز سے توڑی اور بے سلیقہ  تراشی گئی ہے ، بلکہ کلہاڑی سے کاٹی گئی ہے ۔ چاقو سے  مناسب طریقے  سے اس کے ٹکڑے  ٹکڑے کیے  گئے ہیں اور ریتی سے  باقاعدہ تراشی گئی ہے ۔ اب جذبہ شوق   آتش پارسی   کی تلاش میں اتنی  تیزی سے رواں دواں ہے  کہ اس کی سانس پھول رہی ہے ۔ایسی آگ کی تلاش نہیں جو ہندوستان کے بھاڑ  میں بجھ چکی ہو اور مٹھی بھر  راکھ میں تبدیل ہو کر  اپنی فنا  پر دلالت کرتی ہو ۔ ناپاکی کی وجہ سے مردہ ہڈی سے  اپنی بھوک ختم کرنا اور دیوانگی کی بنا پر  مزار  پر بجھے ہوئے  چراغ کے تار سے لٹکنا اس  پر مسلّم  ہے ۔ ایسی  آگ نہ دل کو پگھلا  سکتی ہے نہ اس سے  بزم روشن ہو سکتی ہے ۔  اپنے ہنر سے  آگ پیدا کرنے والا اور آتش  پرست کو اس  کے  اعمال  ِ بد کے بدلے میں آگ میں  جلا ڈالنے والا خوب جانتا  ہے کہ پژدہندہ(تلاش کرنے والا)ایسی تابناک آتش کے حصول کیلئے  بے قرار  ہے  جو ہوشنگ کی پیشکش   کیلئے پتھر  سے نکالی  گئی اور  جو لہراسپ  کی بارگاہ میں روز افزوں  بڑھتی رہی ۔ وہ آتش خس کیلئے  فروغ،  لالہ کیلئے رنگ ، آتش پرست کیلئے  چشم اور بتکدہ کیلئے چراغ ہے ۔
خاکسار  خدا کا سپاس گزار ہے  جو دل کو سخن سے تابناک  بنا دیتا ہے  ۔ اس کی آتش  تابناک کا  ایک شرارہ  خاکسار نے اپنے خاکستر میں پایا تو اس  کے ذریعے  سینے کی خلش بڑھی  ۔ اس شرارہ  پر سانس کی دھونکنی لگا دی  ۔ امید ہے کچھ ہی دنوں میں ایسی صورت  ہو کہ منقل میں چراغ کی  روشنی  جیسی تابندگی  اور عود کی خوشبو میں دماغ کو جلد سے جلد معطر  کرنے کی خوبی  پیدا ہو جائے ۔
اب حقیر راقم کی آرزو ہے کہ  اردو دیوان غزلیات کے انتخاب کے  بعد فارسی دیوان  کے جمع کرنے کی طرف توجہ  کروں  اور اس طرح کمال حاصل کرنے  کے بعد پیر توڑ کربیٹھ جاؤں۔
امید کرتا ہوں  کہ اہل سخن حضرات  اور میرے قدردان  میرے بکھرے ہوئے اشعار کو جو اس دیوان میں شامل نہیں، انہیں  میرے تراوش خامہ کا نتیجہ نہ قرار  دیں گے  اور دیوان کے جامع کو ان اشعار کی  ستایش سے نہ ممنون کریں گے اور نہ ان کی برائی  سے مجھ پر  الزام تراشیں گے۔
یہ  اشعار وجود کی  خوشبو سے محروم ہیں جو عدم سے  وجود میں نہیں  آئے  یعنی  نقش ہیں  جو نقاش کی  ضمیر میں ہیں ۔  نقاش موسوم بہ اسد اللہ  خاں ، معروف بہ مرزا نوشہ اور متخلص  بہ غالبؔ  ہے،  خدا کرے وہ جس طرح  آکبرآبادی  مولد اور  دہلوی مسکن ہے ، آخر میں نجفی مدفن  ہو جائے ۔
24 ذی قعدہ  1248ھ
    
0 comments | edit post
Reactions: 
چھوٹا غالب

غالب کی غزل ِ مسلسل اور طباطبائی کی شرح
از
پروفیسر جابر علی سید



غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
برق سے کرتے ہیں روشن شمعِ ماتم خانہ ہم
محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز ِ خیال
ہیں ورق گردانِ نیرنگئی  یک بت خانہ ہم
باوجود یک ہنگامہ پیدائی نہیں
ہیں چراغاں شبستانِ دل پروانہ ہم
ضعف سے ہے کہ قناعت سے یہ ترکِ آرزو
ہیں وبال ِ تکیہ گاہ ِ ہمت مردانہ ہم
دائم الحبس  اس میں لاکھوں آرزوئیں ہیں اسدؔ
جانتے ہیں سینہ پر خوں کو زنداں خانہ ہم
غالب کی یہ غزل تسلسل ِ خیال اور یک مرکزی کا عدیم المثال نمونہ ہے ۔ اس میں مطلع نہیں ہے۔جس سے خیال ہوتا ہے کہ زمین قلیل القوافی تھی ۔ شاعر جیسے آزاد خیال آرٹسٹ نے اس کی زیادہ پرواہ نہیں کی اور جذبے کا اظہار روایتی پابندی کے بغیر مکمل کر لیا ۔ پہلا شعر اظہار میں تمثیلی ہے ۔ خیال یہ ہے کہ ہم آزادہ رو اور بے پرواہ ہیں۔ اس لئے غم کا احساس لمحاتی سے زیادہ نہیں ہوتا(گویا)ہم اپنے ماتم خانے کی شمع بجلی جیسی یک لمحہ نمود رکھنے والی شئے سے روشن کرتے ہیں ۔ یہاں بجلی زود گزری اور لمحاتی ہونے کی علامت ہے ۔ جب ہم لمحہ پسند واقع ہوئے ہیں تو نصدر کی زندگی کو پھیلاؤ حاصل ہو جاتا ہے لیکن یہ پھیلاؤ تیزی سے گزر جانے والی ذہنی تصویروں کی آماجگاہ بن جاتا ہے ۔ تصورات گزشتہ کی تجدید فسٹماگوریکل اختیار کر جاتی ہے ۔ تصورات اور خیالات کے تسلسل میں ہم اس تاش کا خیرہ کن کھیل دکھانے والا شخص بن جاتے ہیں جس کے چابک دست ہاتھوں میں تاش کے تیزی سے بدلتے ہوئے اور ہر لمحہ ایک نئی صورت سے آنکھوں کو روشناس کرنےکا رکن بن کر ایک وسیع بوقلموں نگار فا تصویر نامے کی ورق الٹتے جاتے ہیں ، عہد شباب کی رنگین محفلیں پلک جھپکنے میں بدل بدل کر زمانے کے تغیرات کو دوبارہ زندہ کر دیتے ہیں ۔ اس طرح کہ زندگی تبدیلیوں اور انقلابوں سے عبارت معلوم ہونے لگتی ہے ۔ اس طرح گو کہ ذہن اندر ہی اندر فسٹما گوریکل صورت اکتیار کر جاتا ہے لیکن ہماری اوپر کی زندگی کی حرکیت کے نیچے ہماری زندگی غور سے خالی نظر آنے لگتی ہے ۔ مرے ہوئے پروانے کے دل کے شبستان کے چراغوں کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ صورت حال ایسا لیتھارجی پیدا کرتی ہے کہ ہم ہمت مردانہ کے تکیہ گاہ کیلئے باعثِ آزار ہو جاتی ہے ۔ گزشتہ انقلابات کے احساس سے ہمیں ہزاروں مری ہوئی تمناؤں کا احساس ہوتا ہے اور ہمارا خون آلود سینہ ایک قید خانہ کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔ خیالات کے تسلسل کے بوجھ تلے دبی ہوئی سی غزل مسلسل اپنی تخلیقی نوعیت میں غالب کی کئی اورغزلوں اور متفرق اشعار کی یاد تازہ کرتی ہے ۔ خصوصاً وہ غزل جس کا مطلع ہے ۔
ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے
اک شمع ہے دلیلِ سحر سو خموش ہے
غزل زیر نظر اور اوپر والی غزل میں مماثلت ہے دونوں میں غرقِ تفکر ہو کر تصویر آفرینی کر رہا ہے اور تھوڑی دیر کیلئے روح کی کشاکش ہستی سے آزاد ہو کر فنون ِ لطیفہ کی وادی میں گم ہو گیا ہے ۔ غالب و شوپنہار کی ہم عصری میں میں ہم مضمونی کی معنی خیز گنجائش نظر آنے لگی ہے ۔ دونوں کی ازدواجی زندگی ناکامیوں کا مرقع ہے ۔ شوپنہار کا گہرا تفکرِ حیات کائنات کے سربستہ راز کی نقاب کشائی کرنے  میں مستغرق رہتا تھا۔ غالب کا خلاق ذہن بیخودیِ مے میں سرشار ہو کر عہد شباب کی زندگی کی یادوں میں محو رہتا تھا ۔ اس کیلئے فرصت کے دن رات درکار تھے ۔ جب تصور جاناں لے کر بیٹھے رہنما  شعری اور مابعد الطبیعاتی ادراکات کی گرہ کشائی ہو سکتی تھی ۔
مغنیہ چودھویں کی خود کشی اس کی سپردگی اور والہانہ عشق ایسا نہ تھا کہ ایک حساس شاعر کو بار بار غرقِ خیال نہ کر دے اسٹو کلر ٹیک طرزِ زندگی سے وابستگی رکھنے والا شاعر شدید حسیاتی ، زندگی کا مشتاق غالب ؔ اپنی محرومی کے احساس کو تازہ کر کے اس کے احساس سےایمنسپیشن حاصل کرنے کا بہتر طریقہ یہ اختیار کرتا ہے کہ ایک با آہنگ حسیاتی الفاظ اور قوائی اضافات سے پیوستہ غزل لکھ کر تلازمے کو ایک محدود دوام بخش دے ایسا دوام جو محدود ہو کر بھی زمان و مکان کو چیر جانے والی صلاحیت رکھتا ہے ۔
غزل کے مقطع میں تخلص اسد ؔ بتاتا ہے کہ یہ غزل غالب کی نسبتاً ابتدائی غزلوں میں سے ہے اس بات کا ثبوت دوسرے شعر میں استعمال ہونے والا فعل "کرے ہے"ہے ۔ جسے ناسخ کے زیر اثرمتروک قرار دے کر اسدؔ  نے اس کا فصیح بدل "کرتا ہے" اختیار کر لیا تھا ۔
دورسا شعر غیر معمولی جمالیاتی یونٹ ہے ۔ اس کا حسن تمثیلی ناسٹلجیا میں ہے جو شعر کو اپنی گرفت میں لئے ہوئے ہے ۔ اٹھارویں صدی کے سیاسی ، معاشی خلفشار کی صدائے باز گشت میرؔ ، میر درد ؔ اور سودا ؔ کی شاعری میں بار بار سنائی دیتی ہے اور مختلف ہجوں اور رویوں کی صورت میں
کیسی کیسی محفلیں آنکھوں کے آگے سے گئیں
دیکھتے ہی دیکھتے یہ کیا ہوا یک بارگی
اس شعر میں درد نے بھی اجڑنے والی محفلوں کو یاد کیا ہے ۔ درد ؔ کا لہجہ یکبارگی کے لفظ کی وجہ سے توقیت اور یک لخت واقع ہونے والی تبدیلی کا احساس رکھتا ہےاس میں بھی درد کی مؤثر کیفیت ہے لیکن غالب کے شعر والی سیٹنگ اور موڑ نہیں ہے ۔ وہ تمثیل نہیں ہے جو کسی جذباتی صورت حال کو کامیاب بنا دیتی ہے ۔ غالب ؔ بھی کیسی کیسی محفلوں کے آنکھوں کے آگے سے جانے کی بات کر رہے ہیں۔ لیکن یہ محفلیں شاعر کی عاشقانہ ، جذباتی اور انفرادی زندگی سے تعلق رکھنے والی محفلیں ہیں ۔جوا ب دوبارہ منعقدنہیں ہو سکتیں ۔ دوسرے شعر کا حسن اس وقت نمایاں ہوتا ہے جب ہم اس کی تقلید میں ایک تشریحی قسم کےشعر سے روشناس ہوتے ہیں ۔
ہستی کی حقیقت ہے یہی اپنی نظر میں
اک تاش کا پتہ ہے کفِ شعبدہ گر میں
معلوم ہوتا ہے کہ صیفی لکھنوی نے غالب کے شعر کی منظوم شرح لکھی ہے جو دوسرے مصرع میں استعمال ہوئے تاش کے پتے کی عامیت کی وجہ سے شعری تخلیق کے بلند مرتبہ سے گر گیا ہے ۔
جدید ترین شاعری کے نقاد اس بات سے انکار کرتے کہ مسلسل تصویر آفرینی ایک نیا میتھڈ ہے ، نیا پرسپشن ہے ۔ اور نہیں جانتے کہ غالب کا ایک نام شیکسپئیر بھی ہے ۔ دونوں یونیورسل آرٹسٹ ہیں ۔ امیج میکنگ ، جنون پسند شاعروں اور فلسفیوں کا دبستان ہےاتنی پرانی بات کو نیا کہنا اسی شخص کو زیب دیتا ہے جو مغرب کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور اسی کی اندھا دھند تقلید پر فخر کرتے ہیں ۔ اس کا استحصال کرتے ہیں ، اپنی شعری میراث پر اچٹتی ہوئی نظر ڈالتے ہیں ۔ اگر وہ غالب کی اس مسلسل غزل پر غور کریں تو اپنی مزعومہ جدیدیت کو  بھول جائیں مگر مسلسل ڈھول بجانے کا ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے ۔ نئے ادب کے پرانے ڈھنڈورچی کم عقل ، کم خواں اور بسیار گو نوجوانوں کے شانوں پر مربیت کا بھاری ہاتھ رکھ دیتے ہیں ۔ ان کی آشیر باد خاطر خواہ نتائج پیدا کرتی ہے ۔ اور ایک امپورٹڈ سکول آف پوئٹری معرض وجود میں آجاتا ہے ۔ آرٹ اور نیوراسس میں بڑا فرق ہے۔نہ آرٹ نیوراسس ہے نہ نیوراسس آرٹ ہے مجنوں  نیوراٹک تھا آرٹسٹ نہیں تھا ۔ غالب آرٹسٹ تھا نیوراٹک نہ تھا ۔ نیوراسس محض موضوع سخن اور آرٹ حقیقت کا دوسرا نام ہے۔ آرٹ جبلت کا کنٹرولڈ منطقہ حارہ ہے ۔ اور غالب کی یہ غزل اس منطقے میں ہمیں پہنچا دیتی ہے تاکہ ہم اس کی مدت اور وسعت سے واقف ہو سکیں ۔
طباطبائی اور شعر نمبر 2:۔سید علی حیدر نظم طباطبائی نے شرح دیوانِ غالب میں شعر نمبر 2 کو اس طرح لکھا ہے ؎
محفلین برہم کرے ہے گنجفہ باز ِ خیال
ہیں ورق گردانی ِ نیرنگِ یک بت خانہ ہم
اس صورت میں دوسرے مصرعہ کی نثر یوں ہو گی ۔:۔ ہم نیرنگ یک بت خانہ کی ورق گردانی ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اشخاص کو ورق گردان کہنے کی بجائے ورق گردانی کہنا غلط ہے ۔ غالباً دیوانِ غالب کے تمام نسخوں مین اس مصرع کی یہی صورت ہے ۔ اور غلط ہے ۔ میری مجوزہ صورت میں صرف ایک فصاحت کا نقص مراد ہوتا ہے یعنی نیرنگی میں پانے کی تشدید ۔ لیکن یہ نقص عام ہوتا ہے ۔ اور بڑے بڑے غزل گو شعرا کے کلام میں نظر آتا ہے ۔ مثالیں ' نکاتِ سخن' میں مل سکتی ہیں ۔
غالب نے اکثر نیرنگی کی جگہ نیرنگ استعمال کیا ہے مثلاً
تماشائے نیرنگِ صورت سلامت
تاہم نیرنگی روزگار ایک عام متداول ترکیب ہے ۔ جس میں یائے زائد ہے لیکن فصیح  تسلیم کی جاتی ہے۔ نظم نے جو شرح اس شعر  کی ہے درست ہے ۔ لیکن 'محفلین' کو "حسینوں کی محفلیں" سے مخصوص و  محدود کر دینے میں غالب کے تخیل کی وسعت محدود ہوتی ہے ۔ جس آرٹسٹ پوئٹ نے جس کا آرٹ ہمیشہ صناعی پر غالب رہتا تھا متعدد سال زندگی کی شدید الصورت ساعتوں سے ہم کناری میں گزارے ہوں وہی یہ صلاحیت رکھ سکتا ہے کہ متعدد سالوں کے گزارنے پر متعدد ساعتوں میں تسلسل اور ارتکاز کے ساتھ ان گزشتہ صورت ہائے حیات کو کیمرے کی تیز رفتار صورت نمائی کو نہج کے ساتھ دوبارہ اس طرح زندہ کر سکے کہ حال ماضی میں مدغم ہو کر ایک ہو جاتی ہے اور مستقبل نگاہ تصور سے اس طرح معلوم ہو جائےکہ اس کا تصور ہی باقی رہ جائے۔شدید الاحساس لمحے شدیدالخیال لمحوں کی قطار اپنے پیچھے چھوڑ جائیں ۔ غالب کے گھر میں ایسا ضخیم البم ہر وقت محفوظ رکھا رہتا تھا جس کی بوقلمونی زندگی کی شدت کا آئینہ ہوتی ہے۔
خموشی میں نہاں خوں گشتہ لاکھوں آرزوئیں ہیں
چراغِ کشتہ ہوں میں ہے زبان گورِ غریباں کا
اب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزو
توڑا جو تو نے آئینہ تمثال دار تھا
یہ یک رنگ تھیم غالب کی غزلوں میں شاعر کے مزاج کا وہ رخ بتاتا ہے جسے ہارٹلے جیسے مفکر نے غالبؔ سے ایک صدی پہلے تلازم کا اصول کے نام سے وضع کیا تھا ۔ تلازم کی دونوں صورتیں ذاتی اور غیر ذاتی غالب کے آرٹ میں دو مختلف رجحان پیدا کرتی ہیں ۔ ایک خالص انفرادی دوسرا مابعد الطبعیاتی ۔ انفرادی رجحان اس  کی  شخصی زندگی کا رخ پیش کرتا ہے اور مابعد الطبعیاتی اسلوب اجتماعی تفکر میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔ اور صدر الدین شیرازی کا خیال ہے کہ سوائے اخلاقی پہلو کے ہمارا مشاہدہ معروض ہے ۔ غالب کے آرٹ میں دونوں صورتیں آلٹرنیٹ کرتی رہتی ہیں  جیسے دستی آرٹ کے بلند اور پست شعبے باری باری اپنا تبرجمل دکھاتے ہیں ۔
چھوٹا غالب


غالب کی ظرافت


ڈاکٹر احسن فاروقی کے ایک یادگار مضمون سے اقتباسات


"حیوانِ ظریف" اردو تنقید نگاری کا سب سے اہم الہامی فقرہ ہے ، کیونکہ اس کے ذریعہ حالی ؔ کی تنقیدی نظر ہمیں غالبؔ کی فطرت کے راز سے اس طرح آگاہ کرتی ہے  جیسا کہ اردو کا کوئی تنقیدی فقرہ اب تک ہمیں کسی شاعر یا دیب کی فطرت سے آگاہ نہ کر سکا۔
غالب کو نہ معلوم کیا کیا کہا گیا ہے مگر سب غلط ، وہ حیوانِ ظریف کے سوا اور کچھ ہیں ہی نہیں ۔ان کو مفکر ، المیہ نگار ، غزل خواں ، مدح سرا ، تنقید نگار اور نہ معلوم کیا کچھ نہیں ثابت کیا گیا ہے ۔ وہ یہ سب ہیں مگر یہ سب باتیں ان کی ظریف حیوانیت کا حصہ ہیں ۔ وہ مکمل حیوان ِ ظریف ہیں ۔ جو اپنی ظرافت میں تمام کائنات کو ہی نہیں بلکہ ہر قسم کے جذباتی تاثرات کو لے لیتے ہیں۔
یوں تو دنیا میں لاکھوں قسم کے ظریف ہوئے مگر مکمل حیوانِ ظریف اگر ادب میں کوئی اور ہوا تو وہ ولیم شیکسپیئر تھا ۔ یہ دو ہی اور تیسرا شاید گوئٹے مکمل حیوانِ ظریف ہوئے ۔ مکمل حیوانِ ظریف کیا ہوتا ہے ۔؟ اس کا اندازہ لگانے کیلئے شیکسپیئر سے شروع کیجئے ۔ شیکسپیئر کی سب سے عظیم تصنیف جو تمام یورپ کی بھی عظیم ترین تصنیف ہے وہ "کنگ لیئر" ہے ۔ اس تصنیف میں المیہ نگاری اپنے کمال پر پہنچتی ہے ، مگر لیئر کا المیہ کچھ نہیں رہ جاتا ۔ اگر اس میں سے اس کے فول کے مزاح کو نکال لیجئے ۔ کلاسیکی نقاد اٹھارویں صدی تک شیکسپیئر کو طربیہ نگار ہی مانتے رہے اور اس کی المیہ نگاری سے انکار ہی کرتے رہے ۔ ظاہر ہے شیکسپیئر یونانی المیہ نگاروں کی سی فطرت ہر گز نہیں رکھتا تھا ۔ مگر وہ یونانی طربیہ نگاروں کی طرح کا بھی نہیں تھا ۔ وہ نشاط الثانیہ کی روح تھا جو بنیادی طور ظریف تھی ۔ مگر جس کی ظرفت کے دائرے میں ہر قسم کے تاثرات آ جاتے تھے ۔ لیئر کی تکالیف کے ساتھ آسمان و زمین متزلزل ہیں ۔ مگر اس حد سے زیادہ تاریک عالم میں فول ہر جگہ اور ہر وقت اپنی مزاح کی پھلجڑیاں ہی چھوڑ رہا ہے ۔ اس ڈرامے کا مصنف کیا ہے۔؟ حیوانِ ظریف ، مکمل حیوانِ ظریف اور کچھ نہیں ۔
غالب کی ہستی بھی یہی کچھ کرتی نظر آتی ہے ۔ یورپ کے اور ہمارے ادب کے بنیادی فرق کاخیال رکھ کر دیکھئے ۔ یورپ کا ادب زیادہ تر خارجی ، ہمارا ادب زیادہ تر داخلی ۔ شیکسپیئر بھی سامنے آئینہ رکھتا ہے ، غالب خود اپنے سامنے آئینہ رکھتا ہے ۔ غالب کی فطرت میں بھی لیئر اور اس کا فول ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ۔ اگر ایک کو الگ کر دیا جائے تو دوسرا بے معنی  ہو جاتا ہے ۔
غالب کی زندگی کنگ لیئر کا سا المیہ ہے ، مگر المیہ کے ہر اہم جزو یا موقع پر حیوانِ ظریف کی فطرت بھی چمکتی نظر آتی ہے ۔ وبا ضرور ایک المیہ ہے ، اس کے المناک مناظر غالب کے سامنے ضرور ہوں گے ۔ مگر اس کے بابت وہ کیا لکھتے ہیں ۔"وبا تھی کہاں جو میں لکھوں کہ اب کم ہے یا زیادہ ۔ ایک چھیاسٹھ برس کا مرد اور ایک چونسٹھ برس کی عورت ۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی مرتا تو ہم جانتے کہ وبا تھی ۔ تف بریں وبا"
امراؤ سنگھ کی دوسری بیوی کا انتقال ضرور المناک تھا ۔مگر غالب اس پر  لکھتے ہیں۔ "امراؤ سنگھ کے حال پر اس واسطے مجھ کو رحم اور اپنے واسطے رشک آیا ۔ اللہ اللہ ایک وہ ہیں کہ دو بار ان کی بیڑیاں کٹ چکی ہیں اورایک ہم ہیں کہ ایک اوپر پچاس برس سے جو پھانسی کا پھندا گلے میں پڑا ہے ، نہ ہی پھندا ٹوٹتا ہے نہ دم نکلتا ہے ۔"
غدر سے بڑا المیہ شاید ہی کوئی اور غالب کے سامنے گزرا ہو ۔ اس کے درمیان غالب بھی لیئر کی طرح ہیتھ پر پھٹے کپڑے شکستہ حال کھڑے ہیں اور آسمان سے تاریکی میں ، بجلی تڑپ تڑپ کر پیڑوں کو جلا کر خاک کر رہی ہے مگر ان کی فطرت میں چھپا ہوا فول اپنی اڑانے سے نہیں چوکتا ۔ غالب کے غدر کے زمانے والے مکاتیب کو "غدر کے واقعہ ہائلہ کی مرثیہ خوانی " کہا گیا ہے ، مگر دیکھئے اس مرثیہ خوانی میں کتنی مزاح نگاری ہے ۔ "میاں حقیقت حال اس سے زیادہ نہیں ہے کہ اب تک جیتا ہوں ۔ بھاگ نہیں گیا ۔ نکالا نہیں گیا ۔ معرض باز پرس میں نہیں آیا ۔ آئندہ دیکھئے کیا ہوتا ہے ۔"
غالب ایک حد تک اس المیہ سے بچے ہوئے اس کا منظر ہی دیکھ رہے ہیں مگر اس کی زد میں بھی آ جاتے ہیں اور سکے لکھنے کے الزام میں "پنشن بھی گیا اور ریست کا نام و نشان خلعت و دربار بھی مٹا ۔"مگر اس عالم میں آ کر ان کے خطوط میں مزاح کا رنگ اور بھی تیز ہو گیا ۔ لکھتے ہیں ۔" میں نے سکہ نہیں کہا ، اگر کہا تو اپنی جان اور حرمت بچانے کو کہا ۔ یہ گناہ نہیں ہے ۔ اور اگر گناہ بھی ہے تو کیا ایسا سنگین ہے کہ ملکہ معظمہ کا اشتہار بھی اسے مٹا نہ سکے ۔ سبحان اللہ ! گولہ انداز کا بارود بنانا اور توپیں لگانا اور بینک گھر اور میگزین لوٹنا معاف ہو جائے گا اور شاعر کے دو مصرعے معاف نہ ہوں ۔ ہاں صاحب گولہ انداز کا بہنوئی مددگار ہے اور شاعر کا سالا بھی جانبدار نہیں ۔"
دلی کے مکانوں کو ڈھایا جانا وہ دردناک طریقہ پر بیان کرتے ہیں ۔ مگر میر مہدی  کی آنکھیں دکھنے آ گئی ہیں تو مزاح کا رنگ یوں پھوٹ نکلتا ہے ۔" تمہاری آنکھوں کے غبار کی وجہ یہ ہے کہ جو مکان دلی میں ڈھائے گئے اور جہاں جہاں سڑکیں نکلیں ، جتنی گرد اڑی ، اس کو آپ نے ازراہِ محبت اپنی آنکھوں میں جگہ دی ۔"
دلی کے لوگوں کی تباہی اور بربادی کے نقوش  ان کےخطوط میں بڑی گہری المناکی سے ابھرتے ہیں مگر ان ہی میں حافظ محمد بخش کا لطیفہ بھی آ ہی جاتا ہے۔" حاکم نے پوچھا ۔ حافظ محمد بخش کون؟ عرض کیا کہ میں ، پھر پوچھا کہ حافظ مموں کون؟ عرض کیا کہ میرا اصل نام محمد بخش ہے ۔ "مموں"  مشہور ہے ، فرمایا یہ کچھ بات نہین ، حافظ محمد بخش بھی تم اور حافط مموں بھی تم ۔ سارا جہاں بھی تم ، جو دنیا میں ہے وہ بھی تم ، ہم مکان کس کو دیں ، مسل داخل دفتر ہوئی ، میاں مموں اپنے گھر چلے آئے ۔"
غالب کا ادراک بھی آفاقی ہے ، جس میں دردناک سے دردناک بات کے پس منظر میں بھی ایک شگفتگی ہے ، جو درد کے پیچھے ایک عجیب دائمی مسکراہٹ کو چھپا ہوا دکھاتی ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ ایک آفاقی مسکراہٹ کے پردے سے ہیبت ، پریشانی ، درد و غم ، حس ، عظمت ، گناہ ، نیکی کے نقوش ابھرتے ہیں اور تمام تکلیف دہ صورتوں کو بھی ایک آفاقی ہمدردی کی سطح پر نقش و نگار کی طرح دکھاتے ہیں۔ ناامیدی کا اس سے بہتراظہار اور کیا ہو سکتا ہے ؎
رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھی 
تو کس امید پہ کہئے کہ آرزو کیا ہے 
مگر اس شعر کو جتنا پڑھتے جائیے ، اتنی ہی ناامیدی دور ہوتی جاتی ہے ۔ ایک عجیب تسکین کا عالم طاری ہو جاتا ہے ، امید اور ناامیدی آرزو سے وابستہ ہیں مگر یہ شعر ہمیں وہاں لے جاتا ہے ، جہاں آرزو ہی آفاق کے دائمی رنگ میں غائب ہوگئی ، جہاں کائنات کے چہرے پر ایک دائمی مسکراہٹ دائمی شگفتگی کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ اپنے ایک شعر میں غالب نے کہا ہے ۔
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی 
میں نے اپنے مضمون "مزاح اور مزاح نگاری " میں اعلی ٰ ترین درجہ مزاح کی وضاحت کرتے ہوئے مضمون کو اس شعر پر ختم کیا ہے ، اصل بات یہ ہے کہ غالب کا ہر شعر اس عالم سے نکل کر آتا دکھائی دیتا ہے ۔ اعلیٰ ترین مزاح ایک عجیب قسم کی ہمدردی کا نام ہے جو مزاحیہ تخلیق کو یا مزاح نگار کو ہمارا قریب ترین دوست بنا دیتی ہے ۔ شیکسپئر کی طرح غالب بھی ہمارے قریب ترین مخلص دوست ہو جاتے ہیں ۔ ہماری زندگی کے ہر قدم پر اور ہر موقع پر ان کے شعر ہمارے سامنے آتے ہیں اور ہمای وقتی الجھنوں کو ، دل دوز تکالیف کو ایک نئی تشکیل دے کر اس آفاقی مزاج سے ہم آہنگ کرتے ہیں جو ہمارے لیے تسکین کی آخری پشت پناہ ہے ۔ غالب کے کثرت سے شعر ایسے ہیں ، جو صاف طور پر مزاحیہ ہیں اور ہر ہر قسم کے مزاح کی مثال ان کے اشعار سے دی جا سکتی ہے ۔  پھکڑ لیجئے :۔
غنچہ نا شگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں
بوسہ کو پوچھتا ہوں میں منہ سے مجھے بتا کہ یوں
دھول دھپا اس سراپا ناز کا شیوہ نہیں 
ہم ہی کر بیٹھے تھے غالب پیش دستی ایک دن
مزاحیہ حالت کے نقشے لیجئے:۔
گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئے
اٹھا اور اٹھ قدم میں نے پاسباں کے لیے 
میں نے کہا" بزم ناز چاہیے غیر سے تہی"
سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
نفسیات پر مزاح لیجئے:۔
ہوا ہے شہہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب ؔ کی آبرو کیا ہے!

ذکاوت ، لطیف طنز ، چوٹ ، ہر چیز کی کثرت سے مثالیں ملتی چلی جائیں  گی ، مگر میں اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں اور جس کی اب تک وضاحت نہیں ہوئی ہے ۔ وہ غالب کی فطرت ِ ظریف ہے جو ان کے ہر شعر کو ہمارے سامنے ہر مشکل وقت پر لا کر ہماری ہر مشکل کو آسان کر دیتی ہے اور ہمارے اندر وہ لاپروائی پیدا کر دیتی ہے جو مزاح کی روح ہے ۔ غالب ؔ کے وہ اشعار بھی جو زندگی کی تلخیوں کے تکلیف دہ مناظر پیش کرتے ہیں ، اپنے اندر ایک لطیف مزاح مضمر رکھتے ہیں ۔ جن کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم ان کو پڑھ کر دائمی مسکراہٹ کے کیف میں پہنچ جاتے ہیں ۔
غالب کا پورا دیوان اس متحد اور مکمل ادراک کی مثال ہے  جس کی بنیادی سطح مزاح ہے ۔ حالی ؔ اس کی تنقیدی تحلیل نہ کر سکے ۔ مگر غالبؔ کو حیوانِ ظریف کہنے سے ان کا مطلب یہی تھا ۔ آسی صاحب نے شرح دیوانِ غالب کے دیباچہ میں کثرت سے شعر غالب ؔ  کی پوشیدہ ظرافت کی مثال میں پیش کیے ہیں ۔ غالب مفکر ہیں اور فکر کی گہرائیوں میں جہاں وہ پہنچے ہیں وہاں اقبال کے سوا کوئی اردو شاعر نہین پہنچا ۔ مگر ان کی بڑی سے بڑی فکر میں بھی ایک پرت ظرافت کی ضرور چڑھی نظر آتی ہے۔ ان کے فارسی اشعار میں بیشتر فکر میں ظرافت شامل نہیں نظر آتی ۔ مگر اسی فکری نکتہ کو جب وہ اردو میں ادا کرتے ہیں  تو ظرافت شامل ہوئے بغیر نہیں رہتی ۔ مثلاً فارسی کا شعر ہے ؎
گفتنی نیست کہ برغالبؔ ناکام چہ رفت
می تواں یافت کہ ایں بندہ خداوند نہ داشت
یہی بات اردو میں آتی ہے تو یہ صورت اختیار کرتی ہے ؎
زندگی اپنی جب اس مشکل سے گزری غالبؔ
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
یہاں دوسرے مصرع میں مزاح صاف ہے ۔ جنت کے اہم مسئلہ کو وہ مزاح سے حل کرتے ہیں؎
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن 
دل کے بہلانے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
قیامت کے سلسلے میں مزاح کچھ پوشیدہ ہو جاتا ہے ۔مگر وجود اس کا شعر کی جان نظر آتا ہے؎
نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں
شبِ فراق سے روزِ جزا زیاد نہیں
ان کے سنجیدہ سے سنجیدہ اشعار اور غزلیں المیہ کے ساتھ طربیہ کا ویسا ہی امتزاج پیش کرتے ہیں جیسے کہ "کنگ لیئر" میں لیئر پیش کرتا ہے۔

چھوٹا غالب

غالب کا طلسم خانہ تحیر

(سعدیہ اقبال)


غالب اپنے دور کے عظیم تجرباتی شاعر تھے ۔اسلوب اور معنویت دونوں اعتبار سے اس قدر متنوع اور گوناگوں تجربات کا اظہار ان کی شاعری میں ہے کہ متقدمین سے لے کر متاخرین تک کوئی بھی ان کا ہم قدم اور ہم سفر نظر نہیں آتا ۔بیسویں صدی میں جتنی بھی تحریکیں وجود میں آئیں ،ہر ایک کا سرچشمہ غالب کی فکر اور فلسفہ ہے ۔ اس تعلق سے مولانا نیاز فتح پوری کا یہ قول بڑی حد تک درست ہے کہ’’اردو شاعری میں نئے رجحانات کا سراغ ہمیں غالب کے وقت سے ملتا ہے۔ ‘‘

غالب کی شاعرانہ عظمت کو سمجھنے کے لئے ان کا یہ جملہ کہ ’’شاعری صرف قافیہ پیمائی نہیں بلکہ معنی آفرینی ہے ‘‘بڑی حد تک ہماری رہنمائی کرتا ہے اور ان کے ذہنی عوامل تک پہچنے میں ممد و معاون بھی ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ شاعر نے معنی آفرینی کی کوشش میں کس کس وادی خیال کی سیر وسیاحت کی ہے:

مستانہ طے کروں ہوں رہ وادی خیال
تا باز گشت سے نہ رہے مدعا مجھے

غالب فطرتا مشکل پسند واقع ہوئے تھے اس کی ایک وجہ ان کے کلام میں فارسی کا غلبہ اور دوسرے بیدل کے مزاج سے ہم آہنگی تھی کہ ابتدائی دور میں انہوں نے بیدل کی اتباع کی اور یہ اعتراف کیا :

طرز بیدل میں ریختہ کہنا
اسد اللہ خاں قیامت ہے

اس کے بعد میر کے رنگ میں بھی انہوں نے شعر کہے مگر سادگی کے باوجود ان اے اشعار میں ذہنی اور نفسیاتی پیچیدگی برقرار رہی ۔

غالب کی شاعری قنوطیت ،رجائیت ،رومانیت ،واقعیت ،رندی ،تصوف ، شوخی ،انکساری ،جیسی متضاد کیفیتوں کا حسین و جمیل مرقع ہے ۔غالب کی آزادہ روی نے انہیں کسی مخصوص فکر یا فریم سے مفاہمت نہیں کرنے دیا ۔انہوں نے زندگی کو کھلے ذہن کے ساتھ مختلف زاویوں سے دیکھا اور ایک سچے فنکار کی حیثیت سے زندگی کی متضاد کیفیتوں کو شاعری کے قالب میں ڈھالا ۔ان کے مشاہدات اس قدر وسیع تھے کہ کائنات کا ہر ذرہ ان کے لئے عرفان و آگہی کا استعارہ تھا:

صد جلوہ روبرو ہے، جو مژگاں اٹھائیے
طاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے

بخشے جلوہ گل ذوق تماشا غالب
چشم کو چاہئے ہر رنگ میں وا ہو جانا

غالب نے اپنے ذہن کے تمام دروازے وا رکھے اور مختلف سمتوں سے کھلی ہوا کا خیر مقدم کیا ۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایک ہی لے میں زندگی کا راگ نہیں الاپا ۔ایک خالص تجرباتی شاعر کی حیثیت سے وہ ہر مقام پر رنگ و آہنگ بدلتے رہے ۔ان کی شاعری کے مختلف حصوں سے الگ الگ آوازیں ابھرتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ ان صداؤں کا تعلق اردو اور فارسی کے قدیم کلاسیکی شعراء کے علاوہ خود ہماری تہذیب و ثقافت اور روایت سے بہت گہرا ہے اور یہ آہنگ اتنا پر اثر ہے کہ اجتماعی لا شعور کو بھی متاثر کرتا ہے ۔

غالب کے کلام میں ہر سطح اور ذوق کے مطالبات کی تسکین کا سامان بھی ہے ۔ایک طرف ان کی شاعری میں رومانیت کا یہ عالم ہے کہ وہ رات دن تصور جاناں کئے بیٹھے رہنا چاہتے ہیں:

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصور جاناں کئے ہوئے

تو دوسری طرف واقعیت کا کا یہ حال ہے کہ محبوب کی ستم شعاری کا شکوہ یوں لطیف طنزئے پیرائے میں یوں کرتے ہیں:

تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں
تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے

غالب ذہنی تضادات کا مجموعہ تھے ۔ ایک طرف شاعر کے ذوق گناہ کا عالم ہے کہ وہ خدا سے نا کردہ گناہوں کی حسرت کی داد چاہتا ہے:

ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد
یا رب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے

تو دوسری طرف خدا کی رحمتوں پہ اس کا یقین اور اپنے اعمال پہ شرمندگی کا یہ عالم ہے کہ بڑی خوبصورتی سے غالب یہ کہتے ہیں:

رحمت اگر قبول کرے کیا بعید ہے
شرمندگی سے عذر نہ کرنا گناہ کا

خواہ سائنس کی دنیا ہو یا شعر وادب کی ،بعض ایسے ذہین لوگ ہوتے ہیں جو اپنی ذکاوت کے ذریعے روایت سے ہٹ کر راہ تلاش کرتے ہیں ۔ اور اس صداقت کو اپنی ذہنی گرفت میں لا تے ہیں جس کا اس وقت لوگوں کو وہم وگمان بھی نہیں ہوتا ۔غالب کا شمار بھی کچھ ایسے ہی ذہین لوگوں میں ہوتا ہے ۔مغربی ادب میں انیسویں صدی کے اواخر میں علامت پسندی اور بیسویں صدی کے آغاز میں پیکریت کی تحریک معرض وجود میں آئی لیکن اس سے نصف صدی قبل اس شاعر نے اپنی فطرت ذکاوت کے سبب علامت پسندی اور پیکریت کے تجربات سے بے شمار امکانات کو روشن کیا ۔اور دنیا کو غرق حیرت کر دیا ۔ صرف یہی نہیں غالب نے اپنے زمانے میں ایسے شعر بھی کہے ہیں جن کی قدرو قیمت اشتراکی واقعیت کے عروج کے بعد اور بڑھ گئی ۔ غالب نے اپنی فطری ذکاوت کی مدد سے سو سال بعد کے ذ ہنی انتشار ، انارکی ، بحران کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا تھا ۔

مستقبل کے مسائل کا عرفان کسی بھی دانشور اور مفکر کے لئے آسان ہے لیکن غالب کی انفرادیت اس میں ہے کہ ان کی سو سال قبل کی شاعری جدید رجحان اور ذہن کی عکاس ہے ۔ آل احمد سرور نے صحیح لکھا ہے کہ ’’غالب سے پہلے اردو شاعری دل والوں کی دنیا تھی ،غالب نے اسے ذہن دیا‘‘

ترقی پسند دور میں غم عشق کے مقابلے غم روزگار کی اہمیت کا احساس شعراء میں جا بجا دکھائی دیتا ہے جس کی بہترین مثال غالب کا یہ شعر ہے:

غم اگر چہ جاں گسل ہے پر کہاں بچے کہ دل ہے
غم عشق گر نہ ہوتا ،غم روزگار ہوتا

اس صنعتی کلچر اور مشینی عہد میں کسی کو اتنی فرصت نہیں کہ دوسروں کی طرف مڑ کر دیکھے ۔ہر شخص اپنی ذات کے حصار میں قید ہے ۔ اور تہذیب تنزلی کی طرف مائل ہے ۔ اس تیز گام تہذیب کے زوال کا منظر ان کی شاعری میں یوں روشن ہوا ہے:

ہر قدم دوری منزل ہے نمایاں مجھ سے
میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے

خلائی سفر ، ٹیکنالوجی اور روز روز کے جدید انکشافات نے انسان کا جس قدر حوصلہ بلند کیا ہے ، اس کا ذکر جدید شعرا’ کے لئے فطری بھی تھا اور لازمی بھی ۔ لیکن غالب صدیوں قبل انسان کو اس بلندی پر دیکھنے کا حوصلہ رکھتے تھے ،وہاں تک غالباً اب تک کسی بھی وجودیت پسند شاعر کی رسائی نہیں ہوئی ہے ۔ اس سلسلے کا ایک شعر:

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا

غالب کے اختراعی اور خلاق ذہن نے اتنی دنیائیں دریافت کر لی تھیں کہ ہر دنیا ایک طلسم خانہ عجائب لگتی ہے ۔ ان کا ذہن مستقبلیت پسند تھا اسی لئے ان کے یہاں تمنا کے دوسرے قدم کی جستجو غالب رہی اور اسی جستجو نے ان کی شاعری سے آج کے ذہنوں کا رشتہ جوڑ دیا ہے کہ اردو زبان سے محبت رکھنے والا شاید ہی کوئی ایسا فرد ہوگا جو دیوان غالب سے متعارف نہ ہو ۔اس دیوان کے بارے میں ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری کا یہ خیال بہت معنی خیز ہے کہ ’’ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں ،وید مقدس اور دیوان غالب‘‘

غالب کی شاعری زندگی کی کشمکش کی پروردہ ہے اسی لئے ان کی شاعری میں جو رنج و الم ملتا ہے ،اور جس تنہائی ، محرومی ،ویرانی ،ناامیدی کی جھلک ملتی ہے ،وہ صرف ذاتی حالات کا عکس نہیں بلکہ اپنے عہد ،سماج اور ماحول کی آئینہ دار ہے ۔وہ فلسفی نہیں لیکن ان کے حساس دل و دماغ میں طرح طرح کے سوالات پیدا ہوتے ہیں ۔غالب کے یہاں استفہامیہ اشعار کی بہتات ہے ،یہ بھی ان کا منفرد انداز ہے ۔ ان کے دیوان کا پہلا شعر ہی سوال سے شروع ہوتا ہے:

نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

ایک دوسرا شعر:

یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لئے
لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں

غالب کی شاعری میں زندگی سے فرار نہیں ہے اور نہ ہی ماضی ان کی پناہ گاہ ہے بلکہ ان کی شاعری میں ہمیں وہ تمام وسعتیں ،حسرتیں ،اور کرب و انتشار ملتے ہیں جو جدید ذہن کا خاصہ ہیں ۔دراصل جدید دور کا آغاز غالب سے ہی ہوتا ہے ۔

غالب کی شاعری میں طنز و مزاح کی نشتریت اور خندگی ہے ۔ حالی نے غالب کو ’حیوان ظریف ‘ کہہ کر ان کی مزاجی کیفیت کی عکاسی کی ہے جبکہ ایسا نہیں کہ وہ بہت خوشحال تھے ،انہیں کوئی پریشانی نہیں تھی ۔قدم قدم پر قسمت نے انہیں چوٹ پہچائی اس کے باوجود وہ شگفتہ مزاج تھے ،شوخی رگ رگ میں سمائی ہوئی تھی ۔موقع کچھ بھی ہو ،وہ شوخی گفتار سے باز نہیں آتے ۔ظرف اتنا وسیع تھا کہ وہ اپنے آپ پر ہنسنے کا حوصلہ رکھتے تھے ۔


طنز و مزاح کے پس پردہ غالب کی شاعری میں ہمیں غم کی ایسی زیریں لہریں ملتی ہیں جن کے چشمے غم ذات ،غم دوراں ،غم عشق سے پھوٹتے ہیں اور یہ غالب کی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے جس کے اثرات ان کی شاعری میں بخوبی محسوس کئے جا سکتے ہیں لیکن یہاں بھی غالب کا انداز نرالا ہے۔وہ غم کو آزار نہیں بناتے بلکہ اسے گوارہ بناتے ہیں اور اس سے بلند ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وہ اپنے آشوب آگہی کو زہر بناکر نہیں بلکہ امرت بناکر ہمارے اندر منتقل کرتے ہیں ۔لہذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ غالب نشاط زیست کے شاعر ہیں ۔

اسلوب بیان میں بھی غالب کا اپنا منفرد مقام ہے ۔وہ محض فکر ونظر کے مجتہد ہی نہیں ان کا انداز بیاں بھی ’اور‘تھا ۔وہ افکار و الفاظ کے درمیان مکمل ہم آہنگی کے قائل ہیں ۔الفاظ ہوں یا تشبیہات وہ اتنی خوبصورتی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں کہ قاری جنوں اور خرد کی کشمکش میں گرفتار ہو جاتا ہے ۔

غالب ایک عظیم شاعر تھے ،ان کی عظمتوں کی علامتیں ان کے شعروں میں نمایاں ہیں ۔عہد کوئی بھی ہو ،غالب کی عظمت سے انکار ممکن نہیں ۔غالب اسم با مسمی تھے ،ان کا نام اسد اللہ خاں اور عرفیت مرزا نوشہ تھی ۔مغل بادشاہ کی طرف سے نجم الدولہ ،دبیر الملک اور نظام جنگ کے خطابات عطا ہوئے ،غالب ان کا تخلص تھا ۔اور اس کا اثر ان کے کلام پر بھی رہا کے کوئی انہیں مغلوب نہ کر سکا ۔
چھوٹا غالب
ہدیہ نعت بحضور شاہ ِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم
از 
مرزا اسد اللہ خان غالب

حق جلوہ گر  زطرزِ بیانِ محمد ﷺ است
حضور نبی کریم ﷺ کے بیان میں ذاتِ خداوندی جلوہ گر ہے
آرے کلامِ حق بزبانِ محمد ﷺ است
واقعی کلامِ حق حضور ﷺ کی زبان مبارک سے  ادا ہوتا ہے

آئینہ دار ِ پرتو مہر است  ماہتاب
ماہتاب سورج کے عکس کا آئینہ دار ہے
شانِ حق  آشکار زِ شان محمد ﷺ است
حضرت رسول اللہ ﷺ  کی شان و عظمت سے خدا کی عظمت و شان کا پتا چلتا ہے

تیرِ قضا ہر آئنہ  در ترکش ِ حق است
قضا کا تیر بلا شبہ حق ہی کے ترکش میں ہوتا ہے
اما کشاد آن زِ کمان محمدﷺ است
لیکن یہ تیر حضور ﷺ کی کمان سے چلتا ہے

دانی ، اگر  بہ معنی "لولاک" وارسی
اگر تو لولاک کے معنی پوری طرح سمجھ لے، تو تجھ پر یہ بات واضح ہو جائے گی
خود ہر چہ از حق است  از آنِ محمد ﷺ است
جو کچھ خدا کا ہے وہ حضور ﷺ ہی کاہے

ہر کس قسم بدانچہ  عزیز  است ، می خورد
ہر کوئی اس چیز کی قسم کھاتا ہے جو اسے عزیز ہوتی ہے
سوگندِ کردگار  بجانِ محمد ﷺ است
چنانچہ اللہ تعالیٰ جانِ محمد ﷺ کی قسم کھاتا ہے
واعظ حدیث سایہ طوبیٰ فرو گذار
اے واعظ !تو طوبیٰ کے سائے کی بات چھوڑ دے
کاینجا سخن زِ سرو روانِ  محمد ﷺ است
کیونکہ یہاں حضرت محمد ﷺ کے قد مبارک کی بات ہو رہی ہے

بنگر  دو  نیمہ  گشتن  ماہ ِ  تمام  را
تو ذرا چودھویں کے چاند کے دو ٹکڑے ہوتے دیکھ
کان  نیمہ  جنبشے  زِ بنانِ محمد ﷺ است
یہ حضرت  محمد ﷺ کی مبارک انگلیوں کے ذرا سے اشارے کا نتیجہ ہے


ورخود  ز نقشِ مہر ِ نبوت  سخن رود 
اور اگر مہر ِ نبوت کے نشان کے بارے میں بات ہو  
آن نیز  نامور  زِ نشانِ محمد ﷺ است
وہ بھی حضور ﷺ کا نشان ہونے کی نسبت سے نامور ہوا ہے

غالبؔ ثنائے خواجہ  بہ یزدان  گزاشتم
غالب ؔنے حضور ﷺ کی نعت کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے
کاں ذاتِ پاک  مرتبہ دانِ محمد ﷺ است
کیونکہ وہ ذاتِ پاک ہی حضرت محمد ﷺ کی شان و عظمت  سے صحیح معنوں میں آگاہ ہے
There was an error in this gadget
ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرفدار نہیں. Powered by Blogger.