چھوٹا غالب
ترجمہ

خوشبو آشنا دماغ کو دعوت  دی جا رہی ہے ، اور محفل  نشینوں کی طینت کو خوشخبری  سنائی جا رہی ہے کہ منقل (آتشدان)میں خوشبو کیلئے  عود جلانے کا کچھ سامان میسر  آ  گیا ہے ، اور کچھ عود ِ ہندی  بھی ہاتھ لگ گئی ہے ۔ یہ عود  کی لکڑی پتھر سے کاٹی نہیں گئی ہے ، نہ غیر مناسب  انداز سے توڑی اور بے سلیقہ  تراشی گئی ہے ، بلکہ کلہاڑی سے کاٹی گئی ہے ۔ چاقو سے  مناسب طریقے  سے اس کے ٹکڑے  ٹکڑے کیے  گئے ہیں اور ریتی سے  باقاعدہ تراشی گئی ہے ۔ اب جذبہ شوق   آتش پارسی   کی تلاش میں اتنی  تیزی سے رواں دواں ہے  کہ اس کی سانس پھول رہی ہے ۔ایسی آگ کی تلاش نہیں جو ہندوستان کے بھاڑ  میں بجھ چکی ہو اور مٹھی بھر  راکھ میں تبدیل ہو کر  اپنی فنا  پر دلالت کرتی ہو ۔ ناپاکی کی وجہ سے مردہ ہڈی سے  اپنی بھوک ختم کرنا اور دیوانگی کی بنا پر  مزار  پر بجھے ہوئے  چراغ کے تار سے لٹکنا اس  پر مسلّم  ہے ۔ ایسی  آگ نہ دل کو پگھلا  سکتی ہے نہ اس سے  بزم روشن ہو سکتی ہے ۔  اپنے ہنر سے  آگ پیدا کرنے والا اور آتش  پرست کو اس  کے  اعمال  ِ بد کے بدلے میں آگ میں  جلا ڈالنے والا خوب جانتا  ہے کہ پژدہندہ(تلاش کرنے والا)ایسی تابناک آتش کے حصول کیلئے  بے قرار  ہے  جو ہوشنگ کی پیشکش   کیلئے پتھر  سے نکالی  گئی اور  جو لہراسپ  کی بارگاہ میں روز افزوں  بڑھتی رہی ۔ وہ آتش خس کیلئے  فروغ،  لالہ کیلئے رنگ ، آتش پرست کیلئے  چشم اور بتکدہ کیلئے چراغ ہے ۔
خاکسار  خدا کا سپاس گزار ہے  جو دل کو سخن سے تابناک  بنا دیتا ہے  ۔ اس کی آتش  تابناک کا  ایک شرارہ  خاکسار نے اپنے خاکستر میں پایا تو اس  کے ذریعے  سینے کی خلش بڑھی  ۔ اس شرارہ  پر سانس کی دھونکنی لگا دی  ۔ امید ہے کچھ ہی دنوں میں ایسی صورت  ہو کہ منقل میں چراغ کی  روشنی  جیسی تابندگی  اور عود کی خوشبو میں دماغ کو جلد سے جلد معطر  کرنے کی خوبی  پیدا ہو جائے ۔
اب حقیر راقم کی آرزو ہے کہ  اردو دیوان غزلیات کے انتخاب کے  بعد فارسی دیوان  کے جمع کرنے کی طرف توجہ  کروں  اور اس طرح کمال حاصل کرنے  کے بعد پیر توڑ کربیٹھ جاؤں۔
امید کرتا ہوں  کہ اہل سخن حضرات  اور میرے قدردان  میرے بکھرے ہوئے اشعار کو جو اس دیوان میں شامل نہیں، انہیں  میرے تراوش خامہ کا نتیجہ نہ قرار  دیں گے  اور دیوان کے جامع کو ان اشعار کی  ستایش سے نہ ممنون کریں گے اور نہ ان کی برائی  سے مجھ پر  الزام تراشیں گے۔
یہ  اشعار وجود کی  خوشبو سے محروم ہیں جو عدم سے  وجود میں نہیں  آئے  یعنی  نقش ہیں  جو نقاش کی  ضمیر میں ہیں ۔  نقاش موسوم بہ اسد اللہ  خاں ، معروف بہ مرزا نوشہ اور متخلص  بہ غالبؔ  ہے،  خدا کرے وہ جس طرح  آکبرآبادی  مولد اور  دہلوی مسکن ہے ، آخر میں نجفی مدفن  ہو جائے ۔
24 ذی قعدہ  1248ھ
    
0 comments | edit post
Reactions: 
چھوٹا غالب

غالب کی غزل ِ مسلسل اور طباطبائی کی شرح
از
پروفیسر جابر علی سید



غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
برق سے کرتے ہیں روشن شمعِ ماتم خانہ ہم
محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز ِ خیال
ہیں ورق گردانِ نیرنگئی  یک بت خانہ ہم
باوجود یک ہنگامہ پیدائی نہیں
ہیں چراغاں شبستانِ دل پروانہ ہم
ضعف سے ہے کہ قناعت سے یہ ترکِ آرزو
ہیں وبال ِ تکیہ گاہ ِ ہمت مردانہ ہم
دائم الحبس  اس میں لاکھوں آرزوئیں ہیں اسدؔ
جانتے ہیں سینہ پر خوں کو زنداں خانہ ہم
غالب کی یہ غزل تسلسل ِ خیال اور یک مرکزی کا عدیم المثال نمونہ ہے ۔ اس میں مطلع نہیں ہے۔جس سے خیال ہوتا ہے کہ زمین قلیل القوافی تھی ۔ شاعر جیسے آزاد خیال آرٹسٹ نے اس کی زیادہ پرواہ نہیں کی اور جذبے کا اظہار روایتی پابندی کے بغیر مکمل کر لیا ۔ پہلا شعر اظہار میں تمثیلی ہے ۔ خیال یہ ہے کہ ہم آزادہ رو اور بے پرواہ ہیں۔ اس لئے غم کا احساس لمحاتی سے زیادہ نہیں ہوتا(گویا)ہم اپنے ماتم خانے کی شمع بجلی جیسی یک لمحہ نمود رکھنے والی شئے سے روشن کرتے ہیں ۔ یہاں بجلی زود گزری اور لمحاتی ہونے کی علامت ہے ۔ جب ہم لمحہ پسند واقع ہوئے ہیں تو نصدر کی زندگی کو پھیلاؤ حاصل ہو جاتا ہے لیکن یہ پھیلاؤ تیزی سے گزر جانے والی ذہنی تصویروں کی آماجگاہ بن جاتا ہے ۔ تصورات گزشتہ کی تجدید فسٹماگوریکل اختیار کر جاتی ہے ۔ تصورات اور خیالات کے تسلسل میں ہم اس تاش کا خیرہ کن کھیل دکھانے والا شخص بن جاتے ہیں جس کے چابک دست ہاتھوں میں تاش کے تیزی سے بدلتے ہوئے اور ہر لمحہ ایک نئی صورت سے آنکھوں کو روشناس کرنےکا رکن بن کر ایک وسیع بوقلموں نگار فا تصویر نامے کی ورق الٹتے جاتے ہیں ، عہد شباب کی رنگین محفلیں پلک جھپکنے میں بدل بدل کر زمانے کے تغیرات کو دوبارہ زندہ کر دیتے ہیں ۔ اس طرح کہ زندگی تبدیلیوں اور انقلابوں سے عبارت معلوم ہونے لگتی ہے ۔ اس طرح گو کہ ذہن اندر ہی اندر فسٹما گوریکل صورت اکتیار کر جاتا ہے لیکن ہماری اوپر کی زندگی کی حرکیت کے نیچے ہماری زندگی غور سے خالی نظر آنے لگتی ہے ۔ مرے ہوئے پروانے کے دل کے شبستان کے چراغوں کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ صورت حال ایسا لیتھارجی پیدا کرتی ہے کہ ہم ہمت مردانہ کے تکیہ گاہ کیلئے باعثِ آزار ہو جاتی ہے ۔ گزشتہ انقلابات کے احساس سے ہمیں ہزاروں مری ہوئی تمناؤں کا احساس ہوتا ہے اور ہمارا خون آلود سینہ ایک قید خانہ کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔ خیالات کے تسلسل کے بوجھ تلے دبی ہوئی سی غزل مسلسل اپنی تخلیقی نوعیت میں غالب کی کئی اورغزلوں اور متفرق اشعار کی یاد تازہ کرتی ہے ۔ خصوصاً وہ غزل جس کا مطلع ہے ۔
ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے
اک شمع ہے دلیلِ سحر سو خموش ہے
غزل زیر نظر اور اوپر والی غزل میں مماثلت ہے دونوں میں غرقِ تفکر ہو کر تصویر آفرینی کر رہا ہے اور تھوڑی دیر کیلئے روح کی کشاکش ہستی سے آزاد ہو کر فنون ِ لطیفہ کی وادی میں گم ہو گیا ہے ۔ غالب و شوپنہار کی ہم عصری میں میں ہم مضمونی کی معنی خیز گنجائش نظر آنے لگی ہے ۔ دونوں کی ازدواجی زندگی ناکامیوں کا مرقع ہے ۔ شوپنہار کا گہرا تفکرِ حیات کائنات کے سربستہ راز کی نقاب کشائی کرنے  میں مستغرق رہتا تھا۔ غالب کا خلاق ذہن بیخودیِ مے میں سرشار ہو کر عہد شباب کی زندگی کی یادوں میں محو رہتا تھا ۔ اس کیلئے فرصت کے دن رات درکار تھے ۔ جب تصور جاناں لے کر بیٹھے رہنما  شعری اور مابعد الطبیعاتی ادراکات کی گرہ کشائی ہو سکتی تھی ۔
مغنیہ چودھویں کی خود کشی اس کی سپردگی اور والہانہ عشق ایسا نہ تھا کہ ایک حساس شاعر کو بار بار غرقِ خیال نہ کر دے اسٹو کلر ٹیک طرزِ زندگی سے وابستگی رکھنے والا شاعر شدید حسیاتی ، زندگی کا مشتاق غالب ؔ اپنی محرومی کے احساس کو تازہ کر کے اس کے احساس سےایمنسپیشن حاصل کرنے کا بہتر طریقہ یہ اختیار کرتا ہے کہ ایک با آہنگ حسیاتی الفاظ اور قوائی اضافات سے پیوستہ غزل لکھ کر تلازمے کو ایک محدود دوام بخش دے ایسا دوام جو محدود ہو کر بھی زمان و مکان کو چیر جانے والی صلاحیت رکھتا ہے ۔
غزل کے مقطع میں تخلص اسد ؔ بتاتا ہے کہ یہ غزل غالب کی نسبتاً ابتدائی غزلوں میں سے ہے اس بات کا ثبوت دوسرے شعر میں استعمال ہونے والا فعل "کرے ہے"ہے ۔ جسے ناسخ کے زیر اثرمتروک قرار دے کر اسدؔ  نے اس کا فصیح بدل "کرتا ہے" اختیار کر لیا تھا ۔
دورسا شعر غیر معمولی جمالیاتی یونٹ ہے ۔ اس کا حسن تمثیلی ناسٹلجیا میں ہے جو شعر کو اپنی گرفت میں لئے ہوئے ہے ۔ اٹھارویں صدی کے سیاسی ، معاشی خلفشار کی صدائے باز گشت میرؔ ، میر درد ؔ اور سودا ؔ کی شاعری میں بار بار سنائی دیتی ہے اور مختلف ہجوں اور رویوں کی صورت میں
کیسی کیسی محفلیں آنکھوں کے آگے سے گئیں
دیکھتے ہی دیکھتے یہ کیا ہوا یک بارگی
اس شعر میں درد نے بھی اجڑنے والی محفلوں کو یاد کیا ہے ۔ درد ؔ کا لہجہ یکبارگی کے لفظ کی وجہ سے توقیت اور یک لخت واقع ہونے والی تبدیلی کا احساس رکھتا ہےاس میں بھی درد کی مؤثر کیفیت ہے لیکن غالب کے شعر والی سیٹنگ اور موڑ نہیں ہے ۔ وہ تمثیل نہیں ہے جو کسی جذباتی صورت حال کو کامیاب بنا دیتی ہے ۔ غالب ؔ بھی کیسی کیسی محفلوں کے آنکھوں کے آگے سے جانے کی بات کر رہے ہیں۔ لیکن یہ محفلیں شاعر کی عاشقانہ ، جذباتی اور انفرادی زندگی سے تعلق رکھنے والی محفلیں ہیں ۔جوا ب دوبارہ منعقدنہیں ہو سکتیں ۔ دوسرے شعر کا حسن اس وقت نمایاں ہوتا ہے جب ہم اس کی تقلید میں ایک تشریحی قسم کےشعر سے روشناس ہوتے ہیں ۔
ہستی کی حقیقت ہے یہی اپنی نظر میں
اک تاش کا پتہ ہے کفِ شعبدہ گر میں
معلوم ہوتا ہے کہ صیفی لکھنوی نے غالب کے شعر کی منظوم شرح لکھی ہے جو دوسرے مصرع میں استعمال ہوئے تاش کے پتے کی عامیت کی وجہ سے شعری تخلیق کے بلند مرتبہ سے گر گیا ہے ۔
جدید ترین شاعری کے نقاد اس بات سے انکار کرتے کہ مسلسل تصویر آفرینی ایک نیا میتھڈ ہے ، نیا پرسپشن ہے ۔ اور نہیں جانتے کہ غالب کا ایک نام شیکسپئیر بھی ہے ۔ دونوں یونیورسل آرٹسٹ ہیں ۔ امیج میکنگ ، جنون پسند شاعروں اور فلسفیوں کا دبستان ہےاتنی پرانی بات کو نیا کہنا اسی شخص کو زیب دیتا ہے جو مغرب کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور اسی کی اندھا دھند تقلید پر فخر کرتے ہیں ۔ اس کا استحصال کرتے ہیں ، اپنی شعری میراث پر اچٹتی ہوئی نظر ڈالتے ہیں ۔ اگر وہ غالب کی اس مسلسل غزل پر غور کریں تو اپنی مزعومہ جدیدیت کو  بھول جائیں مگر مسلسل ڈھول بجانے کا ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے ۔ نئے ادب کے پرانے ڈھنڈورچی کم عقل ، کم خواں اور بسیار گو نوجوانوں کے شانوں پر مربیت کا بھاری ہاتھ رکھ دیتے ہیں ۔ ان کی آشیر باد خاطر خواہ نتائج پیدا کرتی ہے ۔ اور ایک امپورٹڈ سکول آف پوئٹری معرض وجود میں آجاتا ہے ۔ آرٹ اور نیوراسس میں بڑا فرق ہے۔نہ آرٹ نیوراسس ہے نہ نیوراسس آرٹ ہے مجنوں  نیوراٹک تھا آرٹسٹ نہیں تھا ۔ غالب آرٹسٹ تھا نیوراٹک نہ تھا ۔ نیوراسس محض موضوع سخن اور آرٹ حقیقت کا دوسرا نام ہے۔ آرٹ جبلت کا کنٹرولڈ منطقہ حارہ ہے ۔ اور غالب کی یہ غزل اس منطقے میں ہمیں پہنچا دیتی ہے تاکہ ہم اس کی مدت اور وسعت سے واقف ہو سکیں ۔
طباطبائی اور شعر نمبر 2:۔سید علی حیدر نظم طباطبائی نے شرح دیوانِ غالب میں شعر نمبر 2 کو اس طرح لکھا ہے ؎
محفلین برہم کرے ہے گنجفہ باز ِ خیال
ہیں ورق گردانی ِ نیرنگِ یک بت خانہ ہم
اس صورت میں دوسرے مصرعہ کی نثر یوں ہو گی ۔:۔ ہم نیرنگ یک بت خانہ کی ورق گردانی ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اشخاص کو ورق گردان کہنے کی بجائے ورق گردانی کہنا غلط ہے ۔ غالباً دیوانِ غالب کے تمام نسخوں مین اس مصرع کی یہی صورت ہے ۔ اور غلط ہے ۔ میری مجوزہ صورت میں صرف ایک فصاحت کا نقص مراد ہوتا ہے یعنی نیرنگی میں پانے کی تشدید ۔ لیکن یہ نقص عام ہوتا ہے ۔ اور بڑے بڑے غزل گو شعرا کے کلام میں نظر آتا ہے ۔ مثالیں ' نکاتِ سخن' میں مل سکتی ہیں ۔
غالب نے اکثر نیرنگی کی جگہ نیرنگ استعمال کیا ہے مثلاً
تماشائے نیرنگِ صورت سلامت
تاہم نیرنگی روزگار ایک عام متداول ترکیب ہے ۔ جس میں یائے زائد ہے لیکن فصیح  تسلیم کی جاتی ہے۔ نظم نے جو شرح اس شعر  کی ہے درست ہے ۔ لیکن 'محفلین' کو "حسینوں کی محفلیں" سے مخصوص و  محدود کر دینے میں غالب کے تخیل کی وسعت محدود ہوتی ہے ۔ جس آرٹسٹ پوئٹ نے جس کا آرٹ ہمیشہ صناعی پر غالب رہتا تھا متعدد سال زندگی کی شدید الصورت ساعتوں سے ہم کناری میں گزارے ہوں وہی یہ صلاحیت رکھ سکتا ہے کہ متعدد سالوں کے گزارنے پر متعدد ساعتوں میں تسلسل اور ارتکاز کے ساتھ ان گزشتہ صورت ہائے حیات کو کیمرے کی تیز رفتار صورت نمائی کو نہج کے ساتھ دوبارہ اس طرح زندہ کر سکے کہ حال ماضی میں مدغم ہو کر ایک ہو جاتی ہے اور مستقبل نگاہ تصور سے اس طرح معلوم ہو جائےکہ اس کا تصور ہی باقی رہ جائے۔شدید الاحساس لمحے شدیدالخیال لمحوں کی قطار اپنے پیچھے چھوڑ جائیں ۔ غالب کے گھر میں ایسا ضخیم البم ہر وقت محفوظ رکھا رہتا تھا جس کی بوقلمونی زندگی کی شدت کا آئینہ ہوتی ہے۔
خموشی میں نہاں خوں گشتہ لاکھوں آرزوئیں ہیں
چراغِ کشتہ ہوں میں ہے زبان گورِ غریباں کا
اب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزو
توڑا جو تو نے آئینہ تمثال دار تھا
یہ یک رنگ تھیم غالب کی غزلوں میں شاعر کے مزاج کا وہ رخ بتاتا ہے جسے ہارٹلے جیسے مفکر نے غالبؔ سے ایک صدی پہلے تلازم کا اصول کے نام سے وضع کیا تھا ۔ تلازم کی دونوں صورتیں ذاتی اور غیر ذاتی غالب کے آرٹ میں دو مختلف رجحان پیدا کرتی ہیں ۔ ایک خالص انفرادی دوسرا مابعد الطبعیاتی ۔ انفرادی رجحان اس  کی  شخصی زندگی کا رخ پیش کرتا ہے اور مابعد الطبعیاتی اسلوب اجتماعی تفکر میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔ اور صدر الدین شیرازی کا خیال ہے کہ سوائے اخلاقی پہلو کے ہمارا مشاہدہ معروض ہے ۔ غالب کے آرٹ میں دونوں صورتیں آلٹرنیٹ کرتی رہتی ہیں  جیسے دستی آرٹ کے بلند اور پست شعبے باری باری اپنا تبرجمل دکھاتے ہیں ۔
There was an error in this gadget
ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرفدار نہیں. Powered by Blogger.