چھوٹا غالب
غزل

تاز دیوانم   کہ سر مست سخن خواہد شدن
 ایں مے  از قحط  خریداری  کہن خواہد  شدن
دیکھیں میرے دیوان  سے کس پر  محویت و مستی طاری ہوگی ۔ یہ شراب (شاعری) خریداروں  کی بے حد کمی کے باعث  پرانی  ہو جائے  گی ۔
کوکبم را در عدم اوجِ قبولی بودہ است
شہرت شعرم  بہ گیتی  بعد من خواہد  شدن
میرے ستارہ  کو عدم میں اوجِ قبول  حاصل تھا۔  میری شاعری کی شہرت بھی میرے بعد ہی ہوگی۔
ہم سواد صفحہ مشک سودہ  خواہد بیختن
ہم دواتم ناف آہوئے ختن خواہد شدن
میرے صفحے  کی سیاہی (یعنی  میری تحریر) سے  بھی مشک  چھن کر گرے گی ۔ جبکہ میری دوات بھی ختن کے ہرن کی ناف بن جائے گی۔
مطرب از شعرم  بہر بزمے  کہ خواہد زد نوا
چاکہا ایثار   جیب پیرہن خواہد شدن
جس محفل  میں بھی کوئی  مطرب میرے اشعار  گا کر سنائے گا ۔ تو سننے والوں کے گریبان ، چاک کی نذر  ہو جائیں گے۔
حرف حرفم در مذاق  فتنہ جا خواہد گرفت
 دستگاہ  ناز  شیخ و برہمن خواہد شدن
میرے کلام کا ہر  حرف ذوقِ سخن رکھنے والوں کیلئے گویا ایک فتنہ  بن جائے گا ۔ اور شیخ  و برہمن دونوں کیلئے ناز کا سرمایہ  بنے گا۔
ہے چہ می گویم  اگر این است وضع روزگار
 دفتر اشعار  باب سوختن  خواہد شدن
ارے یہ میں کیا کہہ رہا ہوں  ۔ اگر زمانے  کی  صورتحال  یہی ہے  تو یہ دفترِ  اشعار جلائے جانے  کے لائق  رہ جائے  گا۔
آں کہ صور نالہ از شورِ نفس  موزوں  دمید
 کاش دیدے کایں  نشید  شوق فن خواہد شدن
وہ شخص جس کے پر شور سانس سے آہ و فریاد بھی  موزوں ہو کر باہر  آتی ہے ۔  کاش وہ یہ دیکھتا کہ ایک دن یہ نغمہ شوق (شاعری) صنعت گری کی صورت اختیار کر جائے گا۔
کاش سنجیدی کہ بہرِ قتل  معنی یک قلم
 جلوہ کلک و رقم ، دار و رسن خواہد شدن
کاش اس شخص(غالب) کو یہ اندازہ ہوتا کہ معنیٰ کے قتل کیلئے  قلم اور تحریر کا نظارہ، دار و رسن کی صورت اختیار  کر جائے گا۔
چشم کور آئینہ  دعویٰ بکف خواہد گرفت
 دستِ شل  مشاطہ زلف  سخن خواہد شدن
 کور ذوق  لوگ سخن کے دعویٰ کا آئینہ ہاتھ  میں لے لیں گے۔ اور بے جان(لولے) ہاتھ شعر و سخن  کی زلفوں  کی آرائش کریں گے۔
شاہد مضمون کہ اینک شہری جان و دل است
روستا آوارہ  کام و دہن خواہد شدن
شاہد مضمون و معانی جو آج دل و جان کا شہری ہے ۔ ایک دیہاتی اور گنوار کی مانند  حلق و دہن میں آوارہ گھومے گا۔
زاغ ر اغ اندر ہوائے نغمہ بال و پر زناں
 ہم نوائے پردہ سنجان  چمن خواہد شدن
جنگلی کوا نغمہ سرائی کے شوق میں، پر  پھڑپھڑاتے ہوئے چمن کے نغمہ الاپنے والوں کا ہمنوا بن جائے گا۔
شاد باش اے دل دریں محفل کہ ہر جا  نغمہ ایست
شیون رنج فراق جان و تن خواہد شدن
اے دل تو اس محفل میں خوش رہ کیونکہ جہاں بھی کوئی نغمہ ہے وہ جان  اور جسم  میں جدائی کے دکھ کا نوحہ بن جائے گا۔
ہم فروغ شمع ہستی  تیرگی خواہد گزید
ہم بساط  بزم مستی  پر شکن خواہد شدن
شمع ہستی کی روشنی تاریکی کی صورت اختیار کر لے گی  ۔ جب کہ بزم مستی  کی بساط میں شکن پڑ جائیں گے۔ (مراد کہ انسان  فانی ہے)
از تب و تاب فنا یک بارہ چوں مشتے سپند
 ہر یکے گرم  وداع  خویشتن  خواہد شدن
 فنا کی تپش میں ہر کوئی  سپند(ہرمل) کے دانوں کی طرح خود کو الوداع کہنے میں مصروف ہوگا۔
حسن را از جلوہ نازش  نفس خواہد گداخت
نغمہ را از پردہ سازش  کفن خواہد شدن
حسن کا سانس اس  کے اپنے ہی جلوہ ناز سے گداز ہو جائے گا ۔اور نغمہ کیلئے اس کے اپنے ہی ساز کے سُر  کفن بن جائیں گے۔
دہر بے پروا عیار شیوہ ہا خواہد گرفت
داوری خوں در نہاد"ما ومن" خواہد شدن
زندگی کے مختلف طریقوں کو پرکھنے کا کام یہ بے پرواہ زمانہ سنبھال لے گا۔  جبکہ انصاف "ما و من" کے جھگڑوں  میں خون ہو کر  رہ جائے گا۔
پردہ ہا از روئے کارہمدگر خواہد  فتاد
خلوت گبر و مسلماں  انجمن خواہد  شدن
لوگوں کے باہمی کاموں پر سے پردہ اٹھ جائے گا ۔  غیر مسلم اور مسلمان کی اپنی اپنی خلوت ایک  انجمن کی صورت اختیار کر لے گی۔
ہم بفرقش  خاک حرماں ابد خواہند ریخت
مرگ عام ایں بیستوں را کوہکن خواہد شدن
 اور اس بیستوں ( زمانہ) کے سر پر بھی ہمیشہ ہمیشہ کی مایوسی و ناامیدی کی خاک ڈال دی جائے گی ۔  چنانچہ اس (بیستوں) کیلئے مرگ ِ عام کوہکن بن جائے گی۔
گرد پندار وجود از  رہ گذر  خواہد نشست
بحر توحید عیانی موجزن خواہد شدن
پندارِ وجود کی گرد راستے سے ہٹ جائے گی  اور توحید عیانی کا سمندر موجزن ہو جائے گا۔
در تہ ہر حرف غالبؔ چیدہ ام مے خانہ اے
تازدیوانم  کہ سر مست سخن خواہد شدن
غالبؔ میں  نے اپنی  شاعری  کے ہر لفظ کی تہہ میں ایک مے خانہ  رکھ دیا ہے ۔  دیکھیں ، میرے دیوان  کے مطالعے سے اب کس کس پر سر مستی و سرشاری طاری ہوتی ہے۔    
There was an error in this gadget
ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرفدار نہیں. Powered by Blogger.