چھوٹا غالب

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن , ہر پیکرِ تصویر کا

دیوانِ غالب کا پہلا اور کثیر الجہتی شعر ہے.
اس شعر کی مثال اردو ادب تو کیا عالمی ادب میں ملنی مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے. البتہ اس شعر سے جزوی مماثلت مولانا روم کی "بشنو از نے" رکھتی ہے. لیکن اس میں غالب کے مطالب میں سے ایک ہی مطلب جزوی طور پر بیان ہوا ہے. اگر کسی نے حقیقت میں دریا نہیں بلکہ سمندر کوزے میں بند کیا ہے تو وہ غالب نے کیا ہے.

کیا یہ کمال نہیں ہے کہ ایک ہی شعر بیک وقت حمدیہ بھی ہو, وجودی بھی ہو, طنزیہ بھی ہو , المیہ بھی ہو, اور اگر ایک خاص لہجے میں پڑھیں تو وہی شعر سننے والے کو آگ بگولا بھی کر دے.

اکثر لکیر کے فقیر اور ظاہر پرستی کے عادی شارحین نے عودِ ہندی میں شامل غالب کے خط کو حوالہ بنا کر بے تکی شرحیں کر کے اس شعر کو مہمل اور بے معنی کہا ہے. لیکن ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا. جمال ِ غالب کا تذکرہ جوگی کی زبان سے سن کے دیکھیے...

*الفاظ اور ان کے معانی*
نقش.... اسکیچ , شکل , صورت (کسی بھی چیز کی گرافیکل صورت)
فریادی.... فریاد کرنے والا. لیکن ہم نے اس ظاہر پر نہیں رہنا. غالب کو پڑھنا ہے تو لفظ کے پسِ پردہ عوامل پر غور کیجئے.
فریادی کیا کرتاہے؟؟ فریاد کرتا ہے. فریاد کس طرح کی جاتی ہے؟؟ اونچی آواز میں کی جاتی ہے یا کانا پھوسی میں کی جاتی ہے؟
فریاد اونچی آواز میں کی جاتی ہے. اور اونچی آواز میں کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آس پاس موجود سب لوگوں تک آواز پہنچے اور سب کو متوجہ کرے.
یعنی فریاد کے وقت سے پہلے جو بات خفیہ تھی. اس بات کو فریاد کر کے پبلک کیا جاتا ہے. تاکہ سب کو پتا چل جائے.
شوخیِ تحریر..... تحریر کی شوخی. تحریر کی خوبصورتی. جب ہم کوئی خوشخط تحریر دیکھتے ہیں تو بے اختیار یہی پوچھتے ہیں:- واہ یہ خوبصورت اور خوشخط تحریر کس نے لکھی ہے؟
اسی لیے فنکار (مصور , خطاط وغیرہ) پوری لگن سے اپنی ہر تخلیق پر محنت اور وقت صرف کرتے ہیں. تاکہ یہ ہاتھ کی صفائی اور ان کا فن (شوخی ِ تحریر) ان کی پہچان بن جائے. آج بھی لوگ جب مونالیزا کو دیکھتے ہیں تو لیونارڈی ونچی کو یاد کرتے ہیں. حالانکہ اسے اس دنیا سے گزرے ہوئے صدیاں گزر گئیں. لیکن تصویر دیکھتے ہی اسے یاد کیا جاتا ہے.
کاغذی.... نفیس , باریک , مہین. کاغذ کو دیکھیے. وہ اس دنیا کے موجودات میں سے سب سے زیادہ کثیرالاستعمال اور نفیس ہے. اتنا اہم ہے لیکن وزن بالکل ہلکا.  نفاست اتنی کہ پانی میں بھیگتے ہی پھٹ گیا. ہوا زور کی آئی تو اڑ گیا. ذرا سا درجہ حرارت بڑھا تو جل گیا. ایک سیکنڈ پہلے ٹھیک ٹھاک پڑا تھا. ایک سیکنڈ میں ہی ختم ہو کر ماضی بن گیا. جیسے کہ تھا ہی نہیں.
پیرہن....لباس
پیکرِ تصویر.... تصویرمیں موجود پیکر

*مطلب*
1:- ہر تخلیق اپنے خالق کے وجود کی دلیل ہے.
2:- یہ خوبصورت نقش بنانے والا خود کتنا خوبصورت ہوگا.
3:- تمام موجودات صرف ایک تصویری پیکر ہیں.
4:- اس تصویر میں موجود پیکر فریاد کر رہا ہے. مگر کس بات کی فریاد؟
5:- وغیرہ وغیرہ...

*تشریح*
سوالیہ انداز میں جتایا گیا ہے کہ اگر تم کہتے ہو کہ کوئی خدا نہیں ہے. تو یہ سب تخلیق کس کی ہے؟ نیچر اتنا تنوع کیسے تخلیق کر سکتی ہے؟ جس بھی نقش (موجود چیز) کو دیکھ لو وہ اپنی ذات میں ایک مکمل تخلیق ہے.
اگر نیچر ہے تخلیق کار ہے. تو کوئی تصویر بغیر کسی مصور کے کیوں نہیں بنی آج تک؟
ایسا کیوں ممکن نہیں کہ سیاہی گرے اور غالب کے مقابلے کی ایک اردو غزل لکھی جائے.

اگر یہ ناممکن ہے تو پھر مان لو کہ اس شاہکار تخلیق جسے انسان کہتے ہو , اس کا بھی ایک خالق ضرور ہے.

دوسرا مطلب... خوبصورتی
واہ یہ خوبصورت گرافیکل انٹرفیس بنانے والے نے کیا ہی کمال تخلیق کی ہے. ایک خوبصورت دل اور خوبصورت سوچ والا دماغ ہی اس قدر خوبصورت دنیا اور اس قدر خوبصورت موجودات کو پلان کر کے ان کو تخلیق کرنے والا خود کتنا خوبصورت ہوگا.
خالق کہتا ہے کہ "میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا(فریادی کی فریاد سے پہلے) پھر میں نے چاہا کہ میں ظاہر ہو جاؤں تو میں نے کائینات تخلیق کی(فریادی وجود میں آ گیا)"
اب یہ موجودات ایک دوسرے کی آنکھوں کے سامنے خوبصورتی کا مظہر ہیں (فریادی ہیں. اپنے ہونے سے وہ چھپا ہوا راز ایک دوسرے پہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ہاں کوئی خدا ہے.)
ایک نہایت ہی خوبصورت فریادشاعر نے یوں کی.
کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے. وہی خدا ہے.
دکھائی بھی جو نہ دے نظر بھی جو آ رہا ہے. وہی خدا ہے.

تیسرا مطلب....فریاد
تصویر جب تک کاغذ پر نہیں بنی ہوتی تو اس کا کیا مطلب ہے کہ وہ ہے ہی نہیں؟؟ جی نہیں. کاغذ پر تو وہ بعد میں اترتی ہے..اس سے پہلے تو وہ مصور کے دماغ میں ہوتی ہے. ایک شاہکار غزل کاغذ پر تو بعد میں اترتی ہے. لیکن اس سے پہلے وہ شاعر کی سوچ میں ہوتی ہے.
بالکل اسی طرح ذرا اس وقت کا تصور فرمائیں. جب غالب کے الفاظ میں "نہ تھا کچھ تو خدا تھا" کچھ بھی نہیں تھا. نہ عدم و وجود نہ مکان و لامکاں... صرف اور صرف ایک خدا تھا. جو کہ بقول اس کے "چھپا ہوا خزانہ تھا".
لیکن اس وقت بھی اس کے علم میں تھا کہ وہ ایک کائینات تخلیق کرے گا. جس میں یہ یہ موجودات اور مخلوقات ہونگی. پس ثابت ہوا کہ ہم عالمِ ارواح سے پہلے خدا کے علم میں موجود تھے. خدا کے پلان آف تخلیق کا ایک حصہ تھے. یوں بالواسطہ اپنے مبدا سے جڑے تھے. پھر جب اللہ کو منظور ہوا کہ اب تخلیق شروع کی جائے تو کُن فرمایا. ثابت ہوا کہ ہم اس کُن کا ایک حصہ تھے. اور اس کُن کے ذریعے اپنے مبدا سے جدا ہو کر لاوجود سے وجود میں آ رہے تھے.
یہ جدائی ایک اذیت ہے. اپنے جسم سے کچھ زندہ خلیے الگ کر کے دیکھیں. آپ کو لگ پتا جائے گا کہ چند خلیے یا کوئی عضو جسم سے جدا ہوتے وقت کیسا درد کرتا ہے. وہی جدائی کا درد ہے. وہ درد دراصل اس عضو کی فریاد ہے. راکٹ میں بیٹھے خلاباز سے پوچھیے کہ زمین کی کشش ثقل سے نکلتے وقت کیا اذیت سہنی پڑتی ہے. وہ اذیت اپنی اصل سے جدائی کی فریاد ہے.
غالب کے الفاظ میں "ڈبویا مجھ کو ہونے نے" اگر یہ ہونا نہ ہوتا. نہ یہ جسم ہوتا, نہ ہی یہ روح ہوتی تو میں آج بھی خدا کے علم میں اپنے مبدا سے جڑا ہوتا. تب نہ یہ دردِ جدائی ہوتا نہ ہی یہ فریاد ہوتی.
اسی لیے جب سے انسان اس دنیا میں آیا ہے اپنے مبدا سے واپس جا ملنے اور اپنی اصل کی تلاش میں ہے. اس تلاش کی تھکن اس سے کہیں مندر بنا کر کہیں مسجد بنا کر دل کو تسلی دینے پر مجبور کرتی ہے کہ اس کا رابطہ اپنی اصل سے قائم رہے. روح کی اپنے مبدا کی طرف کشش ہی دراصل عشقِ حقیقی ہے.

پس یہ نقش (انسانی گرافکس) جو اتنے خوبصورت ہیں, اور یہ اس خدا کی تخلیقی فنکاری کا منہ بولتا (فریادی) ثبوت ہیں.

چوتھا مطلب..... کاغذی
اللہ تعالی فرماتا ہے کہ "اللہ تعالی خوبصورت ہے اور اسے خوبصورتی پسند ہے." اسی طرح سورۃ والتین میں فرماتا ہے کہ "بے شک ہم نے انسان کو احسن (حسین ترین) تقویم(بناوٹ) میں بنایا" یعنی اللہ کی نظر میں جو بناوٹ سب سے زیادہ حسین تھی. اسی بناوٹ کو انسان کی تخلیق کیلئے پسند کیا.
مختصراً کہا جا سکتا ہے انسان اللہ کی نفیس ترین تخلیق ہے.
لیکن غالب نے سیدھا سیدھا نفیس کا لفظ کیوں نہیں لکھ دیا. کاغذی ہی کیوں لکھا؟
نفیس صرف نفاست اور خوبصورتی کا معنی دیتا ہے. لیکن کاغذی کا لفظ استعمال کر کے غالب نے ایک تیر سے دس شکار کر ڈالے ہیں.
کسی کے ذہن میں خیال آئے گا کہ جوگی کیوں زبردستی کاغذی کے یہ دوردراز مطلب اخذ کرنے پر تُلا ہوا ہے. تو جواب ہے کہ دوسرا مصرعہ پڑھیے. جو کہتا ہے کہ "اس تصویر کے ہر پیکر کا پیرہن (لباس) کاغذی ہے." اپنی جلد کو دیکھ لیں. کیا یہ مگرمچھ اور گینڈے کے کھال جیسی موٹی ہے یا پتلی سی..؟😂
اسی میں میری اس تشریح کی سند ہے. کہ اللہ کی بنائی ہوئی اس تصویر(کائنات) کے ہر پیکر (انسان) کا پیرہن (لباس) کاغذی ہے. اب شاید کوئی کہے کہ لباس کہاں ہم تو ننگے ہی پیدا ہوئے تھے. تو اس کیلئے جواب ہے کہ ہماری بوٹیاں ننگی نہیں آئی تھیں. ایک خوبصورت نفیس کاغذی کھال میں نفاست سے پیک شدہ تھیں. وہی جسے اہلِ علم فطری لباس کہتے ہیں. غالب نے اسی لباس کو بطور دلیل کہا ہے.

اب کاغذی کا ناپائیدار مطلب بھی ذہن میں لائیے. انسانی زندگی کا آبگینہ اتنا نازک ہے کہ ایک ذرا سا ہارٹ اٹیک , ایک 50 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی, ذرا سی منفی صفر سردی , کان میں آنے والی ایک آواز (دھماکہ بھی تو صوتی توانائی ہے) اسے ہستی سے نیستی میں بدل دیتی ہے. ذرا سا ہوا کا دباؤ کم ہوا نہیں آکسیجن کی کمی اور انسان ختم... ابھی تھا ابھی نہیں. کیا خوب کہا شاعر نے.
کیا بشر کی بساط
آج ہے ,  کل نہیں

اس شعر کے مطالب ابھی باقی ہیں.مگر تحریر کی طوالت آڑے آ رہی ہے. لیکن الحمد للہ مناسب حد تک شعر واضح کر دیا ہے.

Labels: 0 comments | edit post
Reactions: 
There was an error in this gadget
ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرفدار نہیں. Powered by Blogger.