چھوٹا غالب

غزل 


بہ وادی  کہ درآں خضر را عصا خفت ست
بہ سینہ می سپرم  رہ اگرچہ پا خفت ست
جس وادی میں خضر  ؑکا عصا سو گیا ہے ۔ وہاں  میں سینے کے بل چل کر  راستہ طے کرتا ہوں اگرچہ میرے پاؤں سو گئے ہیں۔
بدیں نیاز کہ با تست  ، ناز می رسدم 
گدا بہ سایہ  دیوار  پادشا خفت ست
یہ جو مجھے تجھ سے نیاز مندی ہے  مجھے  اس  پر فخر  ہے۔ ایک گدا بادشاہ  کی دیوار کے سائے میں سویا ہوا ہے۔
بہ  صبح  حشر چنین خستہ ، روسیہ خیزد
کہ در شکایت دردو غم دوا خفت ست
ایسا شخص جو عمر بھر  اپنی خستہ حالی اور  دکھ درد کے شکوے  کرنےاور دوا کے غم میں کھویا رہا اور پھر  سو گیا (مر گیا)وہ روزِمحشر روسیاہ  اٹھے گا۔
خروش  حلقہ رنداں  ز نازنیں  پسرے ست
کہ سر بہ زانوئے  زاہد  بہ بوریا خفت ست
رندوں  کے حلقے میں اس لیے شور  مچا ہوا ہے کہ ایک خوبصورت  لڑکا زاہد  کے زانو پہ سر رکھے بوریے پر سو رہا ہے۔
ہوا مخالف و شب تار  و بحر طوفاں خیز
گسستہ لنگر کشتی و ناخدا خفت ست
ہوا مخالف ، رات  اندھیری اور سمندر  میں طوفان اٹھ رہا  ہے ۔  کشتی کا لنگر  ٹوٹ چکا ہے اور ملاح سو رہا ہے۔
غمت بہ شہر  شبخوں زناں بہ بنگہ  خلق
عسس  بہ خانہ و شہ در  حرم سرا خفت ست
تیرا غم راتوں کو لوگوں کے گھر ڈاکے  ڈال رہا ہے ۔ لیکن کوتوال اپنے گھر اور بادشاہ  اپنے  حرم سرا میں سو رہا ہے۔
دلم بہ سبحہ و  سجادہ  و  ردا  لرزد
کہ دزد مرحلہ بیدار و پارسا خفت ست
تسبیح ، مصلیٰ اور چادر کی حالت  دیکھ کر  میرا دل لرز  رہا ہے ۔  کہ چور تو جاگ رہا ہے اور عبادت گزار سو رہا ہے۔
درازی شب و بیداری من ایں ہمہ نیست
زبختِ من خبر آریدتا کجا خفت ست
راتوں کا طویل ہونا اور میرا ساری رات جاگنا کوئی خاص بات نہیں۔ ذرا یہ معلوم کرو  کہ میرا نصیب کہاں سو رہا ہے ۔
ببیں ز دور ومجو قرب شہ کہ منظر را
دریچہ باز  و بہ  دروازہ  اژدہا  خفت ست
تو بادشاہ کو بس دور سے ہی دیکھ لے اور قربت کا خیال چھوڑ دے ۔ کیونکہ منظر کا دریچہ تو کھلا ہے ، لیکن دروازے پر اژدہا سو رہا ہے۔
بہ راہ خفتن من  ہر کہ بنگرد داند
کہ میر قافلہ در کارواں سرا خفت ست
جو کوئی بھی مجھے راستے میں سویا ہوا دیکھے گا  وہ جان لے گا کہ اس قافلے کا سردار کاروان سرا میں سو رہا ہے۔
دگر  زایمنی  راہ و قرب  کعبہ چہ حظ 
مرا کہ ناقہ ز رفتار ماند  و پا خفت ست
اگر  راستہ محفوظ ہے اور کعبہ بھی  قریب ہے ۔ تو مجھےکیا خوشی ہو سکتی ہے جبکہ میری  اونٹنی  چلنے سے رہ گئی ہے اور میرے پاؤں بھی سو گئے ہیں۔
بہ خواب چوں خودم  آسودہ دل مداں غالبؔ
کہ خستہ غرقہ  بہ خوں خفتہ است  تا خفت ست
غالبؔ! تو مجھے سویا ہوا دیکھ کر اپنی طرح آسودہ دل نہ سمجھ۔ کیونکہ خستہ دل آدمی تو سویا ہوا بھی یوں لگتا ہے گویا خون میں ڈوبا سو رہا ہے۔

(پسِ منظر)

 مرزا غالب ؔ جب اپنی پنشن کے مقدمے  کی پیروی  کیلئے کلکتہ  آئے تو مدرسہ عالیہ کلکتہ میں ان کے اعزاز میں ایک مشاعرہ  منعقد کیا گیا ۔ 
اس  مشاعرے میں مرزا  صاحب نے  مندرجہ ذیل غزل  پڑھی  ،تو نواب شمس الدین احمد  خان کے مقرر کردہ کچھ چیلوں  نے محض  ہنگامہ  آرائی اور غالب ؔ پر دباؤ  بڑھانے  کیلئے  خواہ مخواہ اعتراض کیے ۔ اور "عصا خفت" والی  ترکیب کو سراسر غلط اور  خلافِ قاعدہ قرار دیا۔  مرزا غالب ؔ نے شیخ سعدی ؒ کا "عصائے  شیخ خفت" بطور سند  پیش  کیا ۔    اصولی طور پر  اہلِ زبان کے کلام سے سند  ملنے پر  ان کا اعتراض فاسد ہو چکا تھا ۔ لیکن  وہ  تو مشاعرے میں شریک ہی اسی  لیے تھے کہ کسی  نہ کسی بہانےہنگامہ  کھڑا کریں  اور  غالبؔ کی کلکتے میں موجودگی  کونقص ِ امن کا باعث قرار  دلوا کر    مقدمے  اور  اس کے فیصلے پر  اثر انداز ہو  سکیں۔
اس  لیے انہوں  نے ایک فرسودہ  دلیل پیش کی کہ :۔" اس معاملے میں مرزا  قتیل  کی یہ رائے ہے۔"(یعنی یہ ترکیب غلط ہے) غالب  ؔ اول تو ہندوستان میں امیر خسرو  اور اپنے علاوہ کسی کو فارسی  دان سمجھتے ہی نہ  تھے ۔ اس پہ مستزاد کہ اہلِ زبان یعنی شیخ سعدی  ؒ کے مقابلے  میں ایک غیر  اہل زبان یعنی مرزا قتیل  کو  بطور سند پیش  کیا جا رہا تھا۔  وہ برا فروختہ ہو  گئے اور ناک بھوں چڑھا کر  فرمایا:۔" میں فرید  آباد  کے کھتری بچے کے قول کو کیونکر  ماننے لگا جس نے شہرت کی خاطر  اپنا دین بدل لیا تھا۔"
اس زمانے  میں دکن اور سارے جنوبی ہند  میں مرزا قتیل کی  وہی حیثیت تھی جو پاکستان  میں علامہ  اقبال  کی  ہے ۔  مدرسہ عالیہ کے اکثر مدرسین  اور طلباء  مرزا قتیل  کے مداحین  تھے  وہ غالبؔ کی ایسی  حق گوئی کی تاب نہ لا سکے اور مزید  ہنگامہ برپا کر دیا۔صرف یہی نہیں بلکہ اگلے دن کلکتہ میں پوسٹر لگائے گئے جن میں مرزا غالب ؔ کے کلام پر اعتراضات اور ان کے کلام  کی اصلاح دی گئی تھی ۔  کچھ پوسٹر ز پر  غالبؔ کے خلاف نعرے درج تھے ۔

وقت سب  سے  بڑا منصف ہے ۔  آج اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد   نواب شمس الدین احمد خان صرف کتابوں میں رہ  گیا ہے ۔ وہ  بھی صرف غالب ؔ کا  رشتے دار ہونے کے ناطے سے۔ آج قتیل صرف پرانے تذکروں میں ہی مل سکتا ہے ۔  غالب ؔ کے خلاف نعرے لگانے  والوں اور ان کے کلام کی اصلاح دینے والوں کے نام و نشان  بھی کسی کو یاد  نہیں۔  لیکن غالب ؔ کل بھی ہمارے دلوں میں تھے ۔ غالبؔ آج  بھی ہم میں ہیں۔

اگر  گیتی سراسر  باد گیرد
چراغ ِ مقبلاں ہر گز  نمیرد
(اگر زمین سراسر ہوا بن جائے ۔ تب بھی صاحبِ اقبال  اور مقبول لوگوں کا چراغ بجھایا نہیں جا سکتا)
فدوی چھوٹا غالبؔ
   
0 Responses

Post a Comment

There was an error in this gadget
ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرفدار نہیں. Powered by Blogger.